Showing posts with label معلومات. Show all posts
Showing posts with label معلومات. Show all posts

Wednesday, November 21, 2018

دماغ کے بارے میں حیرت انگیز حقائق

ایک بالغ انسانی دماغ کا وزن لگ بھگ تین پونڈ ہوتا ہے۔ مردوں کے دماغ کا اوسط وزن 2.9 پونڈ(1336 گرام) اور خواتین کا 2.6 پونڈ(1198 گرام) ہوتا ہے، مگر بڑے دماغ کا مطلب زیادہ ذہانت نہیں ، درحقیقت البرٹ آئن اسٹائن کے دماغ کا وزن 2.7 پونڈ ہی تھا پھر بھی وہ دنیا کے ذہین ترین انسانوں میں سے ایک تھا۔
آپ کا دماغ اتنی بجلی پیدا کرسکتا ہے جس سے 25 واٹ کا بلب روشن کیا جاسکتا ہے۔
بہت کم افراد کو "مشارکی" کا احساس ہوتا ہے ۔ یعنی ایک حس کا دوسری حس میں شامل ہوجانا۔دیکھنے کی حس سننے کی حس میں مشارکت کرلے۔ سونگھنے کی حس چھونے کی حس سے مشارکت کرلے۔ وغیرہ مثلا وہ رنگوں کو سن سکتے ہیں، الفاظ کو سونگھ سکتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا لیکن یہ احساس بہت کم لوگوں کو ہوتاہے۔ جس کو ہم چھٹی حس سے اکثر تعبیر کردیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں حواس خمسہ کا ہی ذکر ہے۔
یہ بات بالکل غلط ہے کہ انسان اپنے دماغ کا دس فی صد حصہ بھی استعمال نہیں کرپاتا۔ درحقیقت انسان اپنے دماغ کا دس فی صد سے بھی زیادہ حصہ استعمال کرپاتا ہے کیوں کہ دماغ کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں جو فعال نہ ہو۔
بیش تر دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد زبان کا تجزیہ اپنے دماغ کے بائیں حصے سے کرتے ہیں مگر لیفٹ ہینڈ افراد کئی بار دونوں حصوں کو استعمال کرپاتے ہیں۔
انسانی دماغ کی نشوونما پچیس سال کی عمر تک جاری رہتی ہے۔ اس کے بعد دماغ کا سائز بڑھنا رک جاتا ہے۔
دماغ وہ واحدعضو ہے جو خود کو خیالات سے آلودہ کرسکتا ہے۔
دماغ سوتے ہوئے خواب کیوں دیکھتے ہیں تاحال ایک سائنسی اسرار ہے۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ہمارے دماغ کی ورزش کا طریقہ ہے جو وہ نیند کے دوران اختیار کرتا ہے، دیگر کا دعویٰ ہے اس سے دماغ کو دن بھر کی یاداشتوں اور خیالات کو جذب کرنے میں مدد ملتی ہے۔
فیس بلائنڈ نیس نامی عارضہ(یعنی چہروں کی پہچان بھول جانا) ڈھائی فیصد آبادی کو اپنا ہدف بناتا ہے۔ا سٹینفورڈ یونیورسٹی کی 2012 کی ایک تحقیق کے دوران دماغ کے وہ حصے جو دماغ کو شناخت کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں ، اگر ان کو کوئی نقصان پہنچے تو اس سے لوگوں کے لیے چہرے یاد رکھنا ممکن نہیں ہوپاتا اور وہ لوگ انسانی چہروں کو یاد رہنے کے قابل اشیا میں دیکھتے ہیں۔
آپ خود کو گدگدی نہیں کرسکتے کیوں کہ حرام مغز آپ کو ایسا کرنے سے روکتا ہے۔ حرام مغز، جو جسمانی حرکت کا ذمے دار ہوتا ہے سنسنی کے احساس کی پیش گوئی اور ردعمل کو روکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کوئی شخص خود کو گدگدی نہیں کرسکتا حالاں کہ یہ عادت زمانہ ماضی میں سماجی تعلق کی مضبوطی کی ایک قسم سمجھی جاتی تھی۔
کچھ معاشروں میں جانوروں کا دماغ لذیذ غذا سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ہم پاکستان کے لوگ بکروں اور گائے کے مغز شوق سے کھاتے ہیں۔ ہا ں یاد رہے دل کے مریضوں کے لئے مغز اور پائے نقصان دہ ہیں۔کیونکہ ان میں کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے۔
آپ کا دماغ پورے جسم کو ملنے والی آکسیجن کا کم از کم 20 فی صد حصہ استعمال کرتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ کو آپ کے پٹھوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ کے دماغ میں درد کو محسوس کرنے والے ریسیپٹر یا حسی عضو نہیں ہوتے تو درحقیقت آپ کو دماغ کو ’درد‘ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اگرچہ دماغ ہماری ریڑھ کی ہڈی کی مدد سے درد کو شناخت اور پراسیس کرتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دماغی خلیات اور حصوں کو درد محسوس ہی نہیں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دماغی سرجری کسی فرد کی بیداری کے دوران بھی ہوجاتی ہے۔
جو لوگ اعضا ء سے محروم ہوجاتے ہیں وہ شیشے کو بطور تھراپی استعمال کر کے خیالی درد پر قابو پاسکتے ہیں۔ایسا خیالی درد نوے فیصد اعضا سے محروم ہوجانے والے افراد کو محسوس ہوتا ہے تاہم شیشے کی تھراپی دماغ کو معمول کے سنسری پیٹرن میں واپس لوٹانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
Http://Shanzargar.blogspot.com

Monday, November 19, 2018

بچھو کے انوکھے راز

 ایک مثل مشہور
سانپ سُلائے ‘ بچھو رُلائے ( یعنی سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر غنودگی طاری ہوتی ہے اور بچھو کا ڈسا ہوا روتا اور چلاتا رہتا ہے)۔
جانوروں کے زمرے میں بچھو کرہ ارض کا سب سے قدیم باسی ہے۔
بچھو کا تعلق چیونٹیوں ‘ چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں اور دوسرے آٹھ ٹانگوں والے حشرات الارض کے خاندان سے ہے۔
پوری دنیا میں اس کی پانچ سو سے زائد مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔
جسامت کے لحاظ سے ان میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر شکل و شباہت ان کی یکساں ہوتی ہے۔
بعض بچھو تو جھینگا مچھلی سے گہری مشابہت رکھتے ہیں۔
بچھو بڑا ہی موذی اور خطرناک ہوتا ہے اگرچہ اس کے ڈسنے سے موت تو واقع نہیں ہوتی ‘ مگر ناقابل برداشت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔
ایک کمزور آدمی شاید اس کے ڈنک سے مر بھی جائے۔
بچھو کی مختلف اقسام میں سب سے خطرناک ‘ز ہریلا اور موذی ” کالا بچھو“ ہوتا ہے جس کی لمبائی 6 اور 8 سے دس انچ تک ہوتی ہے اور رنگت بہت سیاہ ۔
کہا جاتا ہے کہ یہ بچھو اگر سانپ کو کاٹ لے تو وہ بھی اس کے زہر سے مر جائے گا۔
شکم کا اگلا حصہ اس کے سر اور جڑے ہوئے سینے پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں سات حلقہ نما حصے ہوتے ہیں۔
شکم سے پچھلا حصہ پانچ حلقہ نما ٹکڑوں میں بٹا ہوا اور دبلا پتلا سا ہوتا ہے۔
شکم کے پچھلے حصے میں اس کی دم ہوتی ہے جس کے آخری سرے پر ایک چھوٹی سی زہر کی تھیلی ہوتی ہے اس تھیلی کے منہ پر ایک سخت ‘ خم دار اور نوکیلا کانٹا ہوتا ہے ‘ اسے ڈنک کہتے ہیں۔
ڈنک کا خم اس نوعیت کا ہوتا ہے کہ جب تک بچھو اپنے شکم کے پچھلے حصے کو اوپر نہ اٹھائے ڈنک کام نہیں دے گا۔
ڈنک مارنے کیلئے اسے اپنے جسم کے پچھلے حصے کو اوپر اٹھا کر آگے کو پھینکنا پڑتا ہے ۔
اس کے ڈنک میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے شکار کے جسم میں زہر داخل کرتا ہے۔
زہر کا ذخیرہ دُم کے آخری حصے میں جمع ہوتا ہے۔
عام بچھو کے ڈس لینے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ڈسی ہوئی جگہ پر تیز درد ہوتا ہے اور وہ جگہ بالکل سن ہو جاتی ہے اور وہ جگہ پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے۔
اس کا درد بھنور کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ با ت بھی عام ہے کہ ڈسنے کے بعد جب تک بچھو زندہ رہے گا یہ درد بڑھتا جائے گا۔
 کالے بچھو کے زہر کے اثرات ” کچلے“ سے مشابہ ہوتے ہیں۔ اس کے ڈنک سے سخت درد ہوتا ہے اور قوت گویائی سلب ہو جاتی ہے۔
منہ سے کثیر تعداد میں لعاب خارج ہوتا ہے ۔ مریض سخت بے چین ہو جاتا ہے ۔ سانس لینا دشوار اور اکثر اوقات موت واقع ہو جاتی ہے۔
بچھو دھوپ اور گرمی سے بہت گھبراتے ہیں اور اگر کبھی ایسے ڈبے میں انہیں بند کر دیا جائے جس میں گرمی زیادہ ہو تو یہ فوری طور پر مر جائیں گے۔
چلچلاتی دھوپ میں اسے چند منٹ رکھنے سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب اسے دھوپ میں رکھیں تو پہلے پہل وہ اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوشش کرے گا تا کہ کوئی سایہ مل جائے ‘ مگر تھک ہار کر وہ دیوانہ وار اپنے آپ پر ڈنک مارنا شروع کر دیتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتا ہے۔
اگر چہ بچھو انسان اور بعض جانوروں کا دشمن ہے مگر قدرت نے اس کے بھی بہت سے دشمن پیدا کر رکھے ہیں جو اس کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔
میکسیکو کے گرم جنگلات اور وسطی امریکہ میں چیونٹیوں کی فوج کی فوج ان پر پل پڑتی ہے اور آن کی آن میں بچھو تتر بتر ہو جاتے ہیں۔
افریقہ کے بندر ان کی دُم کو علیحدہ کر کے بقیہ جسم کو مزے لے کر ہڑپ کر لیتے ہیں۔
ٹرانسکو کیزیا میں ایک چھپکلی کے پیٹسے بچھو کے جسم کے کچھ حصے ملے تھے۔
الجیریا میں کچھ لوگ زندہ بچھو بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔
ایریزونا میں مرغی کے چوزے اپنی چونچوں سے بچھوﺅں کو مار ڈالتے ہیں۔
سیاہ چیونٹی اس کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ اگرچہ بچھو کبھی اس کے قابو میں نہیں آتا مگر بھولے سے اگر وہ اس کے ہتھے چڑھ جائے تو پھر اس کا بچ نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بچھو کے زہر کے علاج کیلئے تیر بہدف نسخہ یہ ہے کہ چند زندہ یا مردہ بچھوﺅں کو سرسوں کے تیل میں ڈال کر ایک بوتل میں بند کر رکھیں اور جس جگہ بچھو نے کاٹا ہو‘ وہاں پر یہ تیل لگا دیں۔ فوری طور پر یوں محسوس ہوگا گویا کسی نے برف کی پٹی لگا دی ہے۔
یہی عمل دہرانے سے درد میں خاطر خواہ کمی واقع ہو جائے گی ۔
اس کے علاوہ لیموں کا ست پانی میں حل کر کے بچھو کی کاٹی ہوئی جگہ پر لگانے سے بھی کافی افاقہ ہو جاتا ہے۔
اس کا بہترین علاج تمباکو کی راکھ‘ مائع حالت میں امونیا‘ یا خشک حالت میں نوشادر ‘ پگھلی ہوئی چربی ‘ لیموں کا ست یا پوٹاشیم پرمینگنیٹ ہے۔
ان تمام اشیاءمیں سے جو بھی دستیاب ہو اسے بچھو کے ڈسے ہوئے مقام پر لگانے سے ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔
بچھو کے ڈسے ہوئے زخم سے زہر نکالنے کیلئے لوہے کی بڑی سی چابی یا پستول کی نالی کو اس جگہ پر زور سے ملنا چاہیے۔ اس سے بھی زہر کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
بچھو کے کھانے کی رفتار چیونٹیوں کی طرح بہت سست ہوتی ہے اور یہ چھوٹے سے کیڑے کو کھانے کیلئے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لیتا ہے۔

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
https://shanzargar.blogspot.com

Monday, November 12, 2018

شیر ایک خطرناک جانور

شیر کا شمار خطرناک ترین جانوروں میں کیا جاتا ہے لیکن ایک تحقیق کے نتائج میں شیر کو ہی سب سے پسندیدہ حیوان بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس طاقتور جانور کی کچھ خصوصیات ایسی بھی ہیں جن سے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت ناواقف ہے۔تحقیق کے مطابق نرشیر شکار کرکے ایک طرف ہٹ کر مادہ شیر اور بچوں کو پہلے کھانے کا موقع دیتے ہیں جبکہ کئی ببر شیر پہلے اپنا پیٹ بھرتے ہیں پھر دوسروں کو موقع دیتے ہیں۔ شیر گھات لگا کر شکار پر حملہ کرنا پسند کرتا ہے۔بھارت میں ایک ایسا علاقہ ہے جہاں شیر بستے ہیں وہ دیہاتی سر کے پیچھے انسانی چہرے کا ماسک پہنتے ہیں تاکہ شیر انجان جان کر حملہ نہ کرے۔ شیر بلی کی طرح خرخرا نہیں سکتا۔ وہ سکون یا خوشی ظاہر کرنے کیلئے وہ آنکھیں بند کرلیتا ہے، یوں شیر دکھاتا ہے کہ اسے آپ سے کوئی خطرہ نہیں۔ شیروں کی آنکھ میں گولی پتلی ہوتی ہے جبکہ گھریلوں بلیاں کی پتلی لمبوتری ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلی رات کو اور شیر صبح یا شام کو عموماً دھاوا بولتے ہیں۔ بلی کے برعکس شیر رات کو صاف صاف نہیں دیکھ سکتے لیکن پھر بھی ان کی نظر انسان سے چھ گنا زیادہ تیز ہوتی ہے۔ ہر شیر جنگل میں اپنے مخصوص علاقے میں رہتا ہے جس کی سرحدیں درخت کھرچ کرکے یا جگہ جگہ پیش کرکے متعین کی جاتی ہیں۔ شیر پیدا ہونے کے بعد ایک ہفتے تک اندھے رہتے ہیں، اسی عرصے میں نصف بچے مر جاتے ہیں۔ شیر ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ اور 20 فٹ طویل چھلانگ لگاسکتے ہیں۔ شیر مختلف جانوروں کی بولیاں بول سکتا ہے، شیر کے پنجے کا بھرپور اتنا طاقتور ہوتے ہیں کہ اگر ریچھ کی کمر پر پڑے تو اسے توڑ ڈالتا ہے۔ شیر کے لعاب دہن میں جراثیم کش مادے ہوتے ہیں،اسی لئے زخمی ہونے پر وہ زخم چاٹتا رہتا ہے۔

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

شہد اور اخروٹ کے حیران کن فوائد

شہداوراخروٹ کااستعمال کرکے آپ کئی موذی بیماریوں سے نجات پاسکتے ہیں .آپ نے شہد کے فوائد کے بارے میں تو بہت کچھ سن رکھا ہوگا اور اسی طرح آپ کو اخروٹ کی افادیت کا بھی علم ہوگا لیکن اگر ان دونوں اشیاءکو ملا کر کھایا جائے تو اس کے ان گنت فوائد ہیں اور یہ کئی بیماریوں کے خلاف بہت اچھے طریقے سے کام کرتے ہیں۔ان دونوں اشیاءکو ملا کر کھانے سے وٹامن، منرلز،پروٹین، لحمیات اور کاربوہائیڈریٹس حاصل ہوتے ہیں۔آدھ کلو شہد لے کر اس میں آدھ کلو پسے ہوئے اخروٹ مکس کریں اور ساتھ ہی اس میںلیموںکا رس بھی ملا لیں۔اس مکسچر کو کسی شیشے کے جار میں رکھ لیں اور دن میں تین بار ایک چمچ کھائیں۔ اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہوتوسردیوں میں
100گرام شہد اور اخروٹ کھائیں۔اگر آپ کے سر میں درد ہوتو ادویات کھانے کی بجائے اس مکسچر کے ایک سے دو چمچ دن میں کھائیں،اس کی وجہ سے آپ کی یاداشت بھی مضبوط ہوگی۔ اگر آپ کو معدے میں السر کی تکلیف ہوتو 20گرام پسے ہوئے اخروٹ لے کر اسے ابلتے ہوئے پانی میں ڈالیں اور اس مکسچر کو چھان لیں اور اس میں دو چمچ شہد کے ڈالیں۔کھانے سے آدھ گھنٹہ قبل اس مکسچر کے دن میں دو سے تین چمچ کھائیں۔

مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇


انار کے فوائد

انار ایک بے پناہ فوائد کا حامل پھل ہے ۔ انار کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بے حد مفید ہے ۔ انار کا اصل وطن ایران ہے ۔ اور اس کی باقاعدہ کاشت بھی سب سے پہلے ایران میں شروع ہوئی ۔ انار میں فولاد اور ہائیڈ رو کلورک ایسڈ موجود ہوتے ہیں ۔ انار کھانے سے بھوک کھل کر لگتی ہے ۔ انار میں وٹامن اے ' وٹامن بی ' کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔ انار میں موجود نمک کا تیزاب معدے کو طاقت دیتا ہے اور غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ انار دل کو طاقت دیتا ہے اور جسم میں صاف خون پیدا کرتا ہے ۔ انار ورم جگر ' یرقان ' تلی کے امراض ' گرم ' کھانسی ' سینے میں درد ' بھوک میں کمی ' ٹائیفائیڈ کے لئے مفید ادویاتی اور قدرتی غذا ہے ۔ انار کے رس میں شہد کا اضافہ کیا جائے تو بڑھاپے میں کمی ہوتی ہے انار کے ایک پاؤ جوس میں دو چپاتیوں کے برابر غذائیت موجود ہوتی ہے ۔ معدے کی کمزوری کے لئے انار مفید پھل ہے ۔ چنانچہ یہ مقوی معدہ جگر کے علاوہ مقوی سینہ ہے ۔ انار پھیپھڑوں سے بلغم نکال کر طاقت دیتا ہے ۔ اس میں وٹامن سی ' فاسفورس ' سوڈیم ' کیلشیم ' سلفر ' آئرن جیسے اجزاء بھی وافر پائے جاتے ہیں ۔ یہ مختلف امراض کے بعد کی کمزوری کو دور کرتا ہے اور اس طرح ایک اعلیٰ ٹانک ہے ۔ خون کی کمی ' بلڈ پریشر ' بواسیر اور ہڈیوں کے درد میں انار کو آیورویدک ' ایلوپیتھی اور طب یونانی میں مفید تسلیم کیا گیا ہے ۔ انار کا پھل دل و دماغ کو اس حد تک فرحت اور تازگی دیتا ہے کہ ایک پیغمبرانہ قول کے مطابق اس کے استعمال سے انسان میں نفرت اور حسد کا مادہ زائل ہو جاتا ہے ۔ انار کے چھلکے کے بھی فوائد ہیں ۔ چنانچہ انار ایک مفید پھل ہے جس کے طب میں بے پناہ فوائد ہیں ...
 قدیم یونان اور مصر میں لوگ اسے نسلی زرخیزی اور لافانی زندگی کی علامت سمجھتے تھے، لیکن اب نئی ریسرچ بھی اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ اناروں میں حیران کن طبی فوائد موجود ہوتے ہیں۔ اس خوش ذائقہ پھل کے استعمال سے آپ کئی ایسے فوائد حاصل کرسکتے ہیں جن کو مصنوعی طریقے سے حاصل کرنے کے لیے آپ کو کئی کڑوی اور مہنگی دواؤں کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔
...وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے.
 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇


Friday, November 2, 2018

برمودا ٹرائی اینگل کے اصل حقائق اور دجال کا تعلق

آپ نے برمودا ٹرائی اینگل کے متعلق تو کافی سنا ہوگا لیکن یہ بات کہ یہ ٹرائی اینگل پانی کی سطح پر بنی ہے ، اور یہ کیوں منظر عام پر لائی گئی،، اس کے متعلق شائد بہت کم کسی نے بات کی ہو۔۔ ان شاءاللہ آج کی نشست میں آپ کو کچھ اس کے بارے میں بتایا جائے گا۔

برموادا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس میں واقع ہے اور اس کے متعلق بہت سی کہانیاں اور قصے بنائے گئے ہیں۔ 1945 میں جب فلورایڈا سے اڑنے والے پانچ جہاز کہیں غائب ہوئے تب یہ ٹرائی اینگل منظر عام پر لائی گئی۔ ان جہازوں کو بہت تلاش کیا گیا مگر کہیں سراغ نہ مل سکا۔ آخر جب ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہے جن میں ہوائی جہاز ، کشتیاں فلوریڈا اور میامی کے سمندر سے گزرتے ہوئے کہیں غائب ہو جاتیں تو ان واقعات کا رخ برمودا ٹرائی اینگل کی طرف موڑا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسی مصنوعی اور خود ساختہ تکون وجود میں لائی گئی جو انسان اور انسانیت کے لئے ایک راز رہ سکے اور جب وقت کی ضرورت ہو تو اس جگہ سے کچھ ظاہر کر کے لوگوں کے اذہان پر قابو پایا جاسکے اور یہ بتایا جاسکے کہ ہمارا نجات دہندہ ، دنیا کو بچانے والا ، اور یہودیوں اور عیسائیوں کا مالک (یعنی دجال) آگیا ہے۔

آپ حیران ہوئے ہوں گے کہ میں اپنی بات کا رخ یکدم دجال کی طرف کیوں موڑ رہا ہوں۔ ان شاءاللہ اس کے متعلق واضح دلائل دیئے جائیں گے کہ اس تکون (bermuda Triangle) میں اور دجال میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے۔

بحر الکاہل کے شیطانی سمندر (Devil Sea) اور بحر اوقیانوس کے برمودا ٹرائی اینگل میں کئی خصوصیات کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان دونوں میں کوئی ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہے اور یہ تعلق لازماً شیطانی ہے۔ رحمانی یا انسانی نہیں (کیونکہ جیسے پہلے عرض کیا کہ یہاں بہت سے حادثات رونما ہوچکے ہیں) مثلاً

1۔ دنیا میں یہی دو جگہیں ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں میں متعدد ہوائی اور بحری جہاز غائب ہوچکے ہیں۔ انتہائی تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان دونوں جگہوں کے درمیان ایسے جہازوں کو سفر کرتے دیکھا گیا جو سالوں پہلے غائب ہوچکے تھے۔

2۔ دونوں کے اندر ایسی مقناطیسی کشش یا برقی لہریں موجود ہیں جو بڑے بڑے جہازوں کو توڑ مروڑ کر نگل جاتی ہیں۔

3۔ دونوں کے درمیان اڑن طشتریاں اڑتی دیکھی گئی ہیں جنہیں امریکی میڈیا والے خلائی مخلوق کی سواری کہتے ہیں۔ امریکا کا یہودی میڈیا ان کے متعلق سامنے آنے والے حقائق چھپاتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی جراءت کی اور ان حقائق کو منظر عام پر لائے تو انہیں قتل کردیا گیا۔ جیسے ڈاکٹر موریس جیسوپ اور ڈاکٹر جیمس ای میکڈونلڈ کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ یہ دونوں اڑن طشتریوں کو کھوجتے ہوئے اصل حقائق جان گئے تھے۔

4۔ دونوں جگہوں کو خواص و عوام قدیم زمانے سے شیطان سے منسوب کرتے ہیں اور یہاں ایسی قوتوں کی کارستانیوں کے قائل ہیں جو انسانیت کی خیر خواہ نہیں۔ لیکن ان کے گرد اسرار کے پردے آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ وہ میڈیا جو بال کی کھال اور کھال کی کھال اتاردیتا ہے وہ اس راز کو کیوں چھپا رہا ہے ؟؟

اب ان باتوں کی حقیقت سوائے مخبر صادق ﷺ کے سوا کس سے پوچھی جائے ؟؟

آئیے اب ان کی زبانی ان باتوں کی حقیقت جانتے ہیں جنھیں اس وقت کے کفار و مشرکین بھی صادق الامین کہا کرتے تھے۔

ایک دن حضور ﷺ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ۔۔ تمیم داری پہلے عیسائی تھا ۔ وہ آیا ۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمھیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا تھا۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جزام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ سمندر کے سفر پر بحری جہاز میں روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں (طوفان کے سبب) انھیں مہینہ بھر تک ادھر اُدھر دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جزیرے میں داخل ہوئے تو ان کو ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت سے بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کا پتہ نہیں چلا رہا تھا۔

انہوں نے کہا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اُس بالوں والے جانور نے کہا: میں جساسہ ہوں۔
انہوں نے پوچھا: یہ جساسہ کیا چیز ہے ؟
جواب ملا: اے لوگو! خانقاہ (مراد گھر) میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ۔ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔ انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ جانور شیطان نہ ہو اور کہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھر کم قد کاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔
ہم نے پوچھا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اس نے کہا: میرا پتہ تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟
ہم نے کہا: ہم عرب سے ہیں (پھر ہم نے سارے سفر اور طوفان اور جساسہ کے بارے میں بتایا کہ اس نے ہمیں تیری طرف آنے کا کہا)۔
اس نے کہا: مجھے بیسان کے نخلستان (باغ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس باغ کے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔ پھل آتے ہیں۔
اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی موجود ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے۔
وہ بولا: اس کا پانی بہت جلد ختم ہو جائے گا۔۔ پھر اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے اور کیا لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے اور لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔
اس نے پوچھا: مجھے محمد(ﷺ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ وہ مکہ سے نکل کر یثرب (مدینہ) آ گئے ہیں۔
اس نے پوچھا: کہ کیا عربوں نے اس کے ساتھ جنگ کی ؟
ہم نے کہا: ہاں۔
اُس نے پوچھا: کہ اس (حضرت محمد ﷺ) نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟
ہم نے کہا: کہ وہ اردگر د کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انھوں نے اُن کی اطاعت قبول کرلی ہے۔
اس پر اُس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔
پھر اُس نے کہا: ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔۔
اب میں تمھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ

1۔ دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے۔

2۔ اس کی رہنے کی جگہ ایک بے آباد جزیرہ ہے۔

3۔ اس کے کارندے اسے لمحہ بہ لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے ہیں۔

4۔ اس کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

اب سوال یہ ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل کو ہی اس کا اصل مقام کہا جائے ، جہاں پر کوئی جانے کی جراءت کرے تو اس کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ؟؟

(یہ واقعہ سنانے کے بعد) حضور ﷺ نے اپنا عصاء مبارک منبر پر مار کر فرمایا، یہ ہے طیبہ۔ یہ ہے طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں۔ نہیں وہ مشرق میں ہے۔۔ (اور حضور ﷺ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا)
(صحیح مسلم: حدیث 7208)
اب جزیرۃ العرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو دو جگہیں ہی ایسی ہیں جنہیں مغرب کے عیسائی بھی شیطانی سمندر، شیطانی جزیرے یا جہنم کا دروازہ مانتے ہیں۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کا آخری سرا امریکہ سے جا ملتا ہے۔


مشرق بعید میں بحر الکاہل کے غیر آباد اور ویران جزائر آتے ہیں۔ ان کے اردگرد کے خوفناک پانیوں کا نام ہی شیطانی سمندر (Devil Sea) رکھ دیا گیا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ شیطانی سمندر کا نام مغرب اور خصوصاً عیسائیوں نے کیوں دیا ؟؟ اگر مسلمان یہ نام رکھتے تو بات سمجھ میں آنا آسان بھی تھی۔۔ خیر یہ ابھی ہمارا موضوع نہیں۔۔ فی الحال ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی برمودا ٹرائی اینگل کا تعلق دجال سے ہے ؟؟

حدیث کے الفاظ دوبارہ پڑھئے۔۔ (دجال مشرق میں ہے) ۔۔ زمین چونکہ گول ہے اس لئے اگر مبہم طور پر ہم مشرق کی طرف اشارہ کریں تو وہ اس کی گولائی کی وجہ سے مغرب (بحر الکاہل) تک پہنچے گا۔۔ مگر یہ ایک مبہم تاویل ہے۔ اس سے آگے مضبوط تاویل مصری محقق عیسی داؤد نے اپنی کتاب مثلث برمودا میں کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ پہلے دجال بحر الکاہل کے ان بے آباد اور ویران جزائر میں تھا اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مگر ختم المرسلین ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں اور وہ آزاد ہوگیا ۔۔ مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی لہٰذا وہ شیطانی سمندر (Devil Sea) سے شیطانی تکون (bermuda Triangle) تک رابطے میں ہے۔ جس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نکتہ عروج کو پہنچنے ہی والی ہے۔

دوستو! ویسے تو قرب قیامت میں دجال کے منظر عام پر آ جانے پر کافی نشانیاں ہیں جو ان شاءاللہ آپ ہمارے اہم ترین مضمون سیریز (دجال کون ہوگا) کے اگلے حصوں میں پڑھ سکیں گے۔۔ لیکن جہاں تک صحیح مسلم کی اس حدیث میں موجود (دجال کے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے کیے جانے والے تین اہم اور بنیادی سوالات کا تعلق ہے) تو وہ سوالات دجال نے اسی لیے کیے تھے کیونکہ اسے پتہ تھا جب یہ تین نشانیاں بھی پوری ہو جائیں گی تو اسے دنیا کے سامنے آنے کی (یعنی خروج کی) مکمل اجازت مل جائیگی۔۔

سوال نمبر ایک میں بیسان کے نخلستان کا پوچھا گیا تھا اور اس نخلستان پر موجود درختوں کے پھلوں (کھجوروں) کا ذکر کیا گیا تھا۔۔ بیسان دراصل فلسطین کا علاقہ ہے جہاں دجالی ریاست اسرائیل کا قبضہ ہے۔۔ اور اب وہاں کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا اور یوں دجال کے سامنے آنے کی یہ بہت اہم نشانی اور علامت پوری ہو چکی ہے۔

سوال نمبر دو میں طبریہ کی جھیل کا پوچھا گیا تھا۔۔ جہاں تک بات ہے بحیرہ طبریہ کی تو اس پر بھی اسرائیل کا ہی قبضہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا پانی بھی بہت تیزی سے خشک ہوتا جا رہا ہے۔۔ جس طرح پاکستان میں مشہور ترین دریائوں کا پانی انڈیا کی دشمنی اور چالاکی سے سوکھ رہا ہے اور کم ہو رہا ہے،، طبریہ کا پانی بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔۔ بیشک آپ انٹرنیٹ پر سرچ کر لیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں دیکھ لیں۔۔ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ دجال کے دوسرے سوال والی نشانی بھی مکمل ہو چکی ہے۔

سوال نمبر تین میں زغر کے چشمہ کا پوچھا گیا تھا۔۔ زغر حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی کا نام ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دو صاحبزادیاں تھیں۔ ربہ اور زغر ۔۔ بڑی صاحبزادی (ربہ) کو وفات کے بعد جہاں دفن کیا گیا تو قریب ہی ایک چشمہ تھا جو انکے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہوا۔۔ اسی طرح چھوٹی صاحبزادی (زغر) کی وفات کے بعد انکی تدفین بھی ایک چشمہ کے قریب ہوئی اور وہ چشمہ زغر کے چشمے کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔ دجال کی تفتیش اور تجسس کے عین مطابق یہ تیسری جگہ بھی دجالی ریاست اسرائیل میں ہی واقع ہے۔۔ اور اس کا پانی بھی پوری طرح خشک ہوتے ہی دجال کو نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔
ویسے بھی ایک دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کسی بات پر غضبناک (انتہائی غصے میں) نکلے گا اور منظر عام پر آ جائے گا۔۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ وقت اور مستقبل قریب میں جہاں یہ پانی خشک ہوتا رہے گا تو اللہ پاک کی طرف سے کچھ ایسے اسباب اور حالات و واقعات ضرور رونما ہونگے جس پر دجال کو سخت تشویش اور غصہ ہوگا اور وہ خروج کر جائے گا اور سامنے آ جائے گا۔۔ اب وہ ایسی کیا بات یا باتیں ہونگی،، واقعات ہونگے،، یہ سب غیب کی باتیں ہیں لیکن اتنا ضرور سمجھ آتا ہے کہ وہ دجالی ریاست اسرائیل،، دجالی چمچوں یعنی صیہونیوں اور یہودیوں ،، دجال پرست عیسائیوں ،، دیگر غیر مسلم مذاہب کے دجالی چیلوں اور نام نہاد مسلمانوں کے خلاف ہی کچھ ہوگا تبھی وہ اتنا غصے میں آ جائے گا۔۔ اللہ پاک اس عظیم ترین فتنے سے ہمیں اپنی امان میں رکھیں۔۔ واقعی بہت خوش نصیب ہونگے وہ مسلمان جو موجودہ حالات میں ایمان کی ہی حالت میں دنیا سے جائیں گے۔۔ نہیں تو فتنوں کے دور میں ایمان سلامت رہنا کیا آسان ہے ؟؟؟ اللہ پاک ہمیں صحیح راہ پر قائم رکھیں اور خاتمہ بالخیر فرمائیں۔۔ آمین
آپ نے برمودا ٹرائی اینگل کے حقائق جانے اور دجال کے متعلق پڑھا کہ صحیح احادیث کی روشنی میں وہ کون سی علامات ہیں جو دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے رونما ہوں گی۔۔ ان میں سے بہت سی ظاہر ہوچکی ہیں۔ اگر ہوش مندی سے دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب دجال کے خروج کا زمانہ زیادہ دور نہیں۔۔ اس لئے اس کے فتنے سے بچنے کے لئے ہمیں اپنی ایمانی قوت کو حاصل کرنا ہوگا۔ یہی وہ واحد حل ہے جس کے ذریعے باطل اور اہل باطل کو ہر محاذ پر شکست دی جاسکتی ہے۔

دجالی قوت مادیت پرستی کی وجہ سے ہوگی۔ اور کافر مادیت پرستی ہی کو تمام دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔۔ جبکہ دجال کی اس مادیت پرستی کے مقابلے میں اہل ایمان کو روحانی ترقی حاصل ہوگی۔ اسی قوت کے ذریعے مادیت پرستوں کا زعم باطل ملیا میٹ ہوتے آج کے دور میں بھی ہمیں اللہ پاک نے دکھا دیا۔۔ اور 47 ملکوں کی فوج ایک طرف اور نہتے مجاہد دوسری طرف۔ پھر بھی کافر ان کا بال بیکا نہ کرسکے۔۔ یہ روحانی ترقی کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے معمولات کی حفاظت کریں اور اپنے اوقات میں سے کچھ وقت خالصتاً اللہ پاک کی عبادت کے لئے صرف کریں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھیں اور ہمیں ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔۔ آمین یا رب العالمین۔


Thursday, November 1, 2018

شوبل پرندہ


*”شوبل پرندہ“*
شوبل پرندہ دنیا کے انتہائی عجیب وغریب پرندوں میں سے ایک ہے۔
مَسکن:
یہ پرندہ صاف پانی کی دلدلوں اور کھاڑیوں میں رہتا ہے۔
شوبل، سوڈان٫ یوگینڈا، کانگو٫ روانڈا٫ تنزانیہ٫ کینیا٫ وسطی جمہوری افریقہ٫ بوٹسوانا اور کیمرون میں پایا جاتا ہے۔
جسمانی پیمائشیں:
شوبل کی جسمانی اونچائی 50 انچ
تاہم کچھ اقسام میں 60 انچ تک بھی ہوتی ہے۔
چونچ سے دم تک کی لمبائی 55 انچ
اور پروں کا پھیلاٶ 7 فٹ تک ہوسکتا ہے۔
خوراک:
شوبل ایک گوشت خور پرندہ ہے اس کی خوراک میں
مختلف اقسام کی مچھلیاں بالخصوص کیٹ فش۔
مونیٹر چھپکلی
مینڈک
روڈنٹ چوہے
ننھے کچھوے
مگر مچھ کے بچے
آبی پرندوں کے چوزے
اور تو اور کچھ شوبل افریقی ہرن کے بچے کھاتے بھی پائے گئے ہیں،
گھر :
شوبل اپنا گھونسلا دلدلی گھاس سے بناتا ہے۔
مادہ شوبل  ایک موسم میں 1 سے 3 انڈے دیتی ہے
جن سے 30 دن میں چوزے نکلتے ہیں۔
*دلچسپ حقائق:*
شوبل کی عمر 35 سال تک ہوتی ہے۔
~ یہ رات کو شکار پہ نکلتا ہے۔
 یہ پرندہ  گھروں میں بھی پالا جاتا ہے اور انسان سے جلد مانوس  ہوجاتا ہے۔