Showing posts with label سبق آموز کہانیاں. Show all posts
Showing posts with label سبق آموز کہانیاں. Show all posts

Friday, December 7, 2018

پیاری ماں

بہت عرصہ مجھے اس راز کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ماں کو میرے آنے کی خبر کیسے ہو جاتی ہے۔ میں سکول سے آتا تو دستک دینے سے پہلے دروازہ کھل جاتا۔ کالج سے آتا تو دروازے کے قریب پہنچتے ہی ماں کا خوشی سے دمکتا چہرہ نظر آ جاتا۔
وہ پیار بھری مسکراہٹ سے میرا استقبال کرتی، دعائیں دیتی اور پھر میں صحن میں اینٹوں سے بنے چولہے کے قریب بیٹھ جاتا۔
ماں گرما گرم روٹی بناتی اور میں مزے سے کھاتا ۔
جب میرا پسندیدہ کھانا پکا ہوتا تو ماں کہتی چلو مقابلہ کریں۔
یہ مقابلہ بہت دلچسپ ہوتا تھا۔
ماں روٹی چنگیر میں رکھتی اور کہتی اب دیکھتے ہیں کہ پہلے میں دوسری روٹی پکاتی ہوں یا تم اسے ختم کرتے ہو۔ ماں کچھ اس طرح روٹی پکاتی ... ادھر آخری نوالہ میرے منہ میں جاتا اور ادھر تازہ تازہ اور گرما گرم روٹی توے سے اتر کر میری پلیٹ میں آجاتی۔
یوں میں تین چار روٹیاں کھا جاتا۔
لیکن مجھے کبھی سمجھ نہ آئی کہ فتح کس کی ہوئی!
ہمارے گھر کے کچھ اصول تھے۔ سب ان پر عمل کرتے تھے۔
ہمیں سورج غروب ہونے کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے لاھور میں ایک اخبار میں ملازمت ایسی ملی کہ میں رات گئے گھر آتا تھا۔
ماں کا مگر وہ ہی معمول رہا۔
میں فجر کے وقت بھی اگر گھر آیا تو دروازہ خود کھولنے کی ضرورت کبھی نہ پڑی۔
لیٹ ہو جانے پر کوشش ہوتی تھی کہ میں خاموشی سے دروازہ کھول لوں تاکہ ماں کی نیند خراب نہ ہو لیکن میں ادھر چابی جیب سے نکالتا، ادھر دروازہ کھل جاتا۔
میں ماں سے پوچھتا تھا.... آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں آ گیا ہوں؟
وہ ہنس کے کہتی مجھے تیری خوشبو آ جاتی ہے۔
پھر ایک دن ماں دنیا سے چلی گئی !
ماں کی وفات کے بعد ایک دفعہ میں گھر لیٹ پہنچا، بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑا رہا، پھر ہمت کر کے آہستہ سے دروازہ کھٹکٹایا۔ کچھ دیر انتظار کیا اور جواب نہ ملنے پر دوبارہ دستک دی۔ پھر گلی میں دروازے کے قریب اینٹوں سے بنی دہلیز پر بیٹھ گیا۔
سوچوں میں گم نجانے میں کب تک دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہا اور پتہ نہیں میری آنکھ کب لگی۔ بس اتنا یاد ہے کہ مسجد سےاذان سنائی دی، کچھ دیر بعد سامنے والے گھر سے امّی کی سہیلی نے دروازہ کھولا۔ وہ تڑپ کر باہر آئیں۔
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی پتر! تیری ماں گلی کی جانب کھلنے والی تمہارے کمرے کی کھڑکی سے گھنٹوں جھانکتی رہتی تھی۔ ادھر تو گلی میں قدم رکھتا تھا اور ادھر وہ بھاگم بھاگ نیچے آ جاتی تھیں۔
وہ بولی پتر تیرے لیٹ آنے، رات گئے کچن میں برتنوں کی آوازوں اور شور کی وجہ سے تیری بھابی بڑی بڑ بڑ کیا کرتی تھی کیونکہ ان کی نیند خراب ہوتی تھی۔
پھر انہوں نے آبدیدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھا اور بولیں "پتر ھن اے کھڑکی کدے نیئں کھلنی"۔
کچھ عرصہ بعد میں لاھور سے اسلام آباد آ گیا جہاں میں گیارہ سال سے مقیم ہوں۔
سال میں ایک دو دفعہ میں لاھور جاتا ہوں۔
میرے کمرے کی وہ کھڑکی اب بھی وہاں موجود ہے۔
لیکن ماں کا وہ مسکراہٹ بھرا چہرہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا۔ اللّہ پاک ہر کسی کی ماں کو سلامت رکھے ۔آمین

ماں باپ کے سایہ کی ناقدری مت کر اے نادان
ھوپ بہت کاٹے گی جب شجر کٹ جائےگا..!!
مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ
👇
http://www.ilmkikehkashan.com

Tuesday, November 20, 2018

بادشاہ اور اجنبی شخص

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے - بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-
كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور سدها كر بيچنے كا كاروبار كرتا تها – جب وه شخص حاضر هوا تو بادشاه نے اس شخص سے دریافت کیا كہ تم نے تو مجهے یہ گهوڑا اصيل اور نسلى کہ کر بيچا تها ليكن يہ تو نسلى نہیں – اس شخص نے جواب ديا كہ بادشاه سلامت گهوڑا ہے تو نسلى ليكن اسكى پيدائش كے وقت اسكى ماں مر گئى تهى چنانچہ يہ گهوڑا ايک گائے كا دودھ پى كر اور اسی گائے کے زیر سایہ پلا ہے اور بچپن اسنے گائے كے ساتھ ہى گذارا ہے
بادشاه نے اس شخص كو رخصت كيا اور اپنے اصطبل كے مسئول كو بلا كر پوچها كہ تم كو كيسى پتا چلا كہ گهوڑا اصيل نہیں – اسنے جواب ديا كہ گهوڑا جب گھاس كهاتا ہے تو سر نيچے كر كى گائیوں كى طرح گهاس كهاتا هى جبكہ نسلى گهوڑا گهاس منہ ميں لے كر سر اٹها ليتا ہے
بادشاه اسكى فراست سے خاصا متاثر اور حيران هوا اور اسكى گهر ميں اناج ، ، گھی ، بهنے دنبے اور پرندوں كا اعلى گوشت بطور انعام بھجوایا
اسکے ساتھ ساتھ اسكو اپنى بيگم كے محل ميں تعينات كر ديا – كچھ عرصه گذرنے كے بعد اسنے اپنے مصاحب سے اپنى بيگم كے بارى ميں رائے مانگی تو اسنے جواب ديا كہ اسكى طور اطور تو ملكہ جيسے ہیں ليكن شهزادى (كسى بادشاه كى بيٹى) نہیں ہے – يہ سن كر بادشاه كے پيروں تلے سے زمين نكل گئى كيونكہ اسكى بيوى ايک بادشاه كى بيٹى تهى –بادشاه نے اپنے حواس درست کیے اور اپنى ساس كو بلا بهيجا اور معامله اسكى گوش گذار كيا – بادشاه كى ساس نے اسے جواب ديا كہ حقيقت يہ هے كہ تمارے باپ نے ميرے مياں سے ہمارى بيٹى كي پيدائش پر ہی اسكا رشته مانگ ليا تها ليكن همارى بيتى 6 ماه كى عمر ميں فوت هو گئى چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے واسطے اس بچی کو اپنى بيٹى بنا ليا اور اسكى پرورش كر کے تمہارے ساتھ اس کی شادی کر دی
بادشاه نے مصاحب سے دريافت كيا كہ تم كو كيسے پتا چلا كہ ميرى بيوى شهزادى نہیں ہے – اسنے كہا كہ اسكا سلوک خادموں كے ساتھ ٹھيک نہيں اور بادشاه اسطرح نہیں كرتے
بادشاه اپنے مصاحب كى فراست سے مزید متاثر هوا اور بہت سا اناج اور بهيڑ بكرياں بطور انعام اس مصاحب كو دين اور اسکے ساتھ ساتھ اسے اپنے دربار ميں متعين كر ديا – كچھ عرصه گزرنے كے بعد اسنے اپنے اس مصاحب سے اپنى بارے ميں دريافت كيا – مصاحب نے كہا كہ اگر جان كى امان پاؤں تو عرض كروں – بادشاه نے اس سے جان كى امان كا وعده كيا تو اسنے كہا كہ تم هو تو بادشاه ليكن نہ تم بادشاه كى بچے ہو نہ تو تمہارا چال چلن بادشاہوں جيسا ہے

یہ سن کر بادشاه كے پاؤں تلے زمين نكل گئى امان كا وعده وه پہلے ہی دے چكا تها چنانچہ وه اس گتهى كو بهى سلجهانے اپنى والده كے محل جا پہنچا تا كہ پتا چلے كہ ماجرا كيا ہے
اس كى والده نے اسكى بات سن كر كہا كہ ہاں تم بادشاه كے نہیں بلكہ ايک چرواہے كے بيٹے ہو
بادشاه نے مصاحب كو بلايا اور اس سے پوچها كہ تمہیں كيسے پتا چلا كہ ميں بادشاه كا بيٹا نہیں ہوں – مصاحب نے بادشاہ کو جواب دیا كہ بادشاه جب كسى كو انعام و اكرام ديا كرتے ہیں تو ہيرے موتی اور جواہرات كى شكل ميں ديتے ہيں ليكن تم جب بهى كسى كو انعام و اكرام سے نوازتے ہو تو اناج اور بهيڑ بكرياں اور كهانے پينے كي چيزيں عنايت كرتے ہو يہ اسلوب كسى بادشاه كے بيٹے كا نہیں بلكہ كسى چرواہے كے بيٹے كا ہی ہو سكتا ہے..!!
 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
https://shanzargar.blogspot.com

Friday, November 16, 2018

چھوٹی کوشش بڑی نیکی

کہیں ایک قصہ پڑھا تھا کہ سمندر کے کنارے ایک شخص چہل قدمی کرنے جاتا تھا ،اس نے وہاں ایک شخص کو دیکھا کہ وه شخص نیچے جھکتا اور کوئی چیز اٹھاتا اور سمندر میں پھینکتا جاتا... وه ذرا قریب ھوا تو دیکھا کہ ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رھی ھیں شاید تازه موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ساحل پر لا پٹخا تھا اور وه شخص ان مچھلیوں کو سمندر میں واپس پھینکنے کی کوشش کر رھا تھا......اس شخص کو اس کی بیوقوفی پر ہنسی آرہی تھی اس نے ہنستے ھوۓ اس سے کہا بھلا ان ہزاروں مچھلیوں میں سے کتنی بچا پاٶ گے؟..وه شخص جھکا اور ایک تڑپتی ھوئی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا....پھر سکون سے دوسرے شخص سے بولا..اس مچھلی کو فرق پڑا...
ھماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات میں تبدیلی نہ آۓ لیکن کسی ایک کے لئے تو فائده مند ھوسکتی ھے...اپنی بساط کے مطابق اچھائی کرتے رہیں ،اس فکر میں مبتلا نہ ھوں کہ آپ کے اس عمل سے معاشرے میں کیا تبدیلی آئی .....
الله تعالی ھم سب کو آسانیاں عطا فرماۓ
اور آسانیاں تقسيم کرنے کا شرف بخشے...آمین

 اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

Thursday, November 15, 2018

بیوہ عورت

ایک بزرگ ولی اللہ جناب داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ایک حکایت ہے کہ:
ان کے شہر ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ۔ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﻞ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺍﻭﻥ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﺋﯽ، ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﮨﻢ ﻭﺻﻮﻝ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭ ﺩﺭﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺋﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﮑﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭨﯽ، ﺍﻭﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﻟُﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﻮﮨﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﺎ، ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﮨﻮﻟﻨﺎﮐﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﻭ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﺳﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔
 ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺳﯿﺪﮬﺎ جناب داؤد طائی ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺼﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟ جناب داؤد طائی ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ابھی اسے تسلی دے رہے تھے کہ اتنے میں ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻮﺕ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ، ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ دیں ﺗﻮ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺻﺪﻗﮧ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺩُﻋﺎ ﮐﺮ ﮨﯽ
 ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻧﮯ کہیں سے ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻻ ﻻ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎﯾﺎ، ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﺮ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮭﺎ تو ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻟﯿﺠﯿﺌﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﺤﻘﯿﻦ ﮐﻮ ڈھونڈ کر ﺩﮮ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ گا
 داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ اللہ رب العزت کی اس حکمت پر حیران و پریشان ہوتے ہوئے ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﻟﯿﮑﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﻧﺪﺭ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺍُﺳﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟
بیوہ عورت داؤد طائی رحمتہ اللہ کے چہرے کو تکتی رہ گئی... اسکی آنکھوں سے اشک جاری تھے... گویا اس کے جسم کا ہر ہر حصہ, ہر ہر بال رب کے شکر میں ڈوبا جا رہا ہو.
اللہ کی تدبیریں ہماری سوچ سے کہیں بہتر ہیں. اللہ کا شکر ادا کریں اور اسکی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں. وہ کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
پوسٹ اچھی لگے تو شیئر ضرور کر دیا کریں تاکہ دوسرے لوگوں تک پہنچ سکے اور کومنٹ میں اپنی رائے ضرور دیا کریں تاکہ احباب دوست پوسٹ کے متعلق متوجہ ہو سکیں ۔
جزاک اللّه

 اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

Tuesday, November 13, 2018

چار ٹھگ

"یہ دنبہ ہے کتا نہیں"
پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے، انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ ....! "ایک دیہاتی دنبہ خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا ’’بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟ ‘‘دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا ’’بیوقوف تجھے نظر نہیں آرہا کہ یہ دنبہ ہے کتا نہیں‘‘۔ دیہاتی کچھ اورآگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا ’’یار یہ کتا تو بڑا شاندار ہے کتنے کاخریدا؟ ‘‘ دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا۔ اب دیہاتی تیز قدموں سے اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگا مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا جس نے پروگرام کے مطابق کہا ’’جناب یہ کتا کہاں سے لیا؟ اب دیہاتی تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ کہیں واقعی کتا تو نہیں۔ اسی شش و پنج میں مبتلا وہ باقی ماندہ راستہ کاٹنے لگا۔بالآخر چوتھے ٹھگ سے ٹکراؤ ہوگیا جس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور بولا: جناب کیا اس کتے کو گھاس کھلاؤ گے؟ اب تو دیہاتی کے اوسان خطا ہو گئے اوراس کا شک یقین میں بدل گیا کہ "یہ واقعی کتا ہے۔" وہ اس دنبہ کوچھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا یوں ان چاروں ٹھگوں نے دنبہ ٹھگ لیا. آج ہمارا معاشرہ بھی دوسری نوعیت کے ٹھگوں کی یلغار میں ہے۔ یہ ٹھگ دراصل ہمارے ایمان کے ٹھگ ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ لوگ سچائی کی راہ پر چلیں، یہ ایمانداری کے خلاف اتنی دلیلیں دیتے ہیں کہ ایک ایماندار شخص مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتا ہے۔یہ ناجائز منافع خوری کو حق ثابت کر کے دوسرے لوگوں کو بھی اس قبیح فعل پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عبادات کو رسومات بنا کر لوگوں کو خدا سے دور کرتے ہیں۔ یہ نکاح کو زنا کے مترادف قرار دے کر خاندانی نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ ہوس کو محبت کا نام دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔یہ مذہب کو کلچر سے تعبیر دے کر لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔ غرض یہ ٹھگ اس جدید دنیا کے ماڈرن شیطان ہیں۔ یہ ہمارے پاس اپنی قبیح شکل میں نہیں آتے بلکہ یہ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو کر ہمار ے ہمدرد بن کر یہ ساری کارروائی کرتے ہیں۔ اس پوری صورتحال سے بچنے کے لیے ایک صالح مومن کو دو تدابیر اختیار کرنی ہیں۔"ایک تو یہ کہ وہ حق وباطل کے معیار کو عوام الناس کی رائے سے اخذ کرنے کی بجائے وحی اور مسلمہ اخلاقی اصولوں سے اخذ کرے۔" "دوسرا یہ کہ وہ ان شیطانوں کو پہچانے اور ان کی باتوں کو اہمیت نہ دے ورنہ اس کاحشر اس دیہاتی کی طرح ہوگا جو دنبے کو کتا سمجھ بیٹھا تھا۔"

مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇


بادشاہ کی دانائی

پرانے زمانے میں کسی بادشاہ کے دربار میں چند درباری بادشاہ کے سامنے یہی بحث کر رہے تھے کہ عبادت کے دوران خصوصاً نماز میں شیطانی وسوسوں کی وجہ سے انسانی ذہن منتشر ہو جاتا ہے اور عبادت کا سارا اثر زائل ہو جاتا ہے۔

لیکن بادشاہ اِس بات سے انکاری تھا اور اُس کا کہنا تھا کہ اگر انسان کے شعور میں اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت، جنت و دوزخ کی جزا اور سزا کی ذرا سی بھی اہمیت ہو تو وہ کبھی بھی ایسے خیالات کو پیدا نہیں ہونے دے سکتا۔

آخر بادشاہ نے اُن لوگوں کو سبق سکھانے اور عملی طور پر بات کو سمجھانے کے لیے ایک ترکیب سوچی اور اُن سب کو پانی کے بڑے بڑے پیالے تھما دئیے اور محل سے ملحقہ بازار کا چکر لگانے کا حکم دیا، اور ساتھ ہی ساتھ یہ تاکید بھی کی کہ "خبردار! اگر کسی کے پیالے میں سے ایک پانی کا قطرہ بھی چھلکا۔ ورنہ اُس کا سر اُدھر ہی قلم کر دیا جائے گا۔ اور تم میں سے جو بھی کامیابی سے یہ کام سر انجام دے گا اُسے بیش قیمت انعام سے نوازا جائے گا۔۔۔!"

حکم کے ملتے ہی وہ بحث کرنے والے درباری اپنے اپنے پیالے کے ہمراہ بازار کا چکر لگانے کے لیے نکل پڑے اور اُن کے ساتھ ساتھ بادشاہ کے حکم پر ایک ایک جلاد بھی ساتھ ہو لیا کہ اگر کسی کے پیالے میں سے ایک قطرہ بھی گرے تو وہ اُدھر ہی اُس کا کام تمام کر سکیں۔

لیکن اُن سب درباریوں کے لیے حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب وہ سب اپنی منزل پر پانی کا ایک قطرہ گرائے بغیر بخیرو عافیت پہنچ چکے تھے۔

تب بادشاہ نے باری باری سے اُن سب درباریوں سے بازار اور اِردگرد کی چیزوں کے بارے میں پوچھا تو اُن سب کا یہی جواب تھا کہ۔۔!!
"حضور! سر قلم ہونے کا ڈر تھا اور انعام کو پانے کی چاہ تھی بس اِسی لیے ہمارا کسی دوسری طرف دھیان گیا ہی نہیں۔"

جى هاں ! اگر ہمارے دل میں بھی خدا کا خوف، جہنم کا ڈر اور جنت کی چاہ ہو تو کچھ ناممکن نہیں کہ ہم بھی اپنی عبادات کو اردگرد کی سوچوں اور شیطانی خیالوں سے پاک نہ کر سکیں..!!
مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

دیہاتی اور بادشاہ کا محل

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﻣﺤﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺑﺲ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﺤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﭨْﮑﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﻏﺮﺿﯿﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺸﺪﺭ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺮﻁ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻣﺤﻞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺤﻞ ﺍْﺳﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍْﺱ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍْﺱ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﺮ ﭘﮭﺮﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺟﺎﻥ ﮔﻨﻮﺍ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﯿﺎ ﺁﺩﮬﺎﻣﺤﻞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﻞ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﯽ ﺁﺗﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺷﮩﺮﮦ ﺑﮩﺖ ﺩْﻭﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺍْﮌﺗﯽ ﺍْﮌﺗﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺟﺐ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﺳْﻨﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﻭﺯﯾﺮﻭﮞ ﻣﺸﯿﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻼﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺩْﮬﻦ ﮐﺎ ﭘﮑﺎ ﻧﮑﻼ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﺪﯾﺎ ﮔﯿﺎ
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮮ ﻟﯿﮑﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﺭﺍﮨﺪﺍﺭﯾﺎﮞ ﻓﺎﻧﻮﺱ ﻗﻤﻘﻤﮯ ﻗﺎﻟﯿﻦ ﺻﻮﻓﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﺣﻮﺽ ﺑﺎﻍ ﭘﮕﮉﻧﮉﯾﺎﮞ ﺍﻟﻐﺮﺽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﮍﮮ ﭘﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺭﻭﺑﺮﻭ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﮔﻮﯾﺎ ﺳﻨﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮﮞ ﻣﺤﻞ ﺍﺏ ﺗﯿﺮﺍ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻃﮯ ﺷﺪﮦ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﺴﮑﮯ ﺩﺭﻭﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﯿﺎﺭﯾﺎﮞ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﺣﻮﺽ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﻤﺮﮮ ﺭﮨﺎﺋﺸﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﻦ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﯿﺎﺭﯾﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﻤﻘﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻭﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻭﻧﮕﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻥ ﮔﻨﻮﺍ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳْﻦ ﮐﺮ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﻗﮩﻘﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﻞ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﭘﺮﻟﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﮯ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﻨﻮﺍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﯿﻢ ﻭﺍ ﮐﺮﻟﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺤﻞ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺁﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮔﻨﻮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺍﺏ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻠﮑﯿﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍْﺳﮯ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﻮﻧﮕﺎ ﺩﻭﺳﺘﻮ ” ﻭﮦ ﻣﺤﻞ ﺩْﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻭﮦ ﮐﺮﯾﻢ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻢ ﻭﺍ ﺁﻧﮑﮫ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩْﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺎﻣﻘﺼﺪ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔