Showing posts with label اسلامی واقعات. Show all posts
Showing posts with label اسلامی واقعات. Show all posts

Monday, November 19, 2018

گوہ کی گواہی


حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک اعرابی آیا جس کے پاس گوہ تھی‘ وہ کہنے لگا‘ مجھے لات و عزیٰ کی قسم اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم‘ میں تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لاؤں گا جب تک کہ یہ گوہ تمہاری صداقت کی گواہی نہ دے‘ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا سنو! پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ سے مخاطب ہو کر فرمایا‘ اے گوہ بول! گوہ سنتے ہی عربی زبان میں بول اٹھی‘لبیک یا رسول العالمین‘تمام سعادتیں اور کامیابیاں آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ سے پوچھا تم کس کی عبادت کرتی ہو‘ گوہ نے فوراً جواب دیا‘ اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمان میں ہے اور زمین میں جس کی حکومت ہے اور سمندر میں جس کا راستہ ہے اور جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں کون ہوں“ وہ بولی‘ آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘ جس نے آپؐ کو پہچان لیا وہ نجات پا گیا اور جس نے آپؐ کو نہ مانا وہ دونوں جہانوں میں نقصان پا گیا۔
اس اعرابی نے جب گوہ کی گواہی سنی تو وہ فوراً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت وعظمت کا اقراراور آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کا علم جانوروں کو بھی ہے پھر جو شخص حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور ختم نبوت میں شک کرے اس سے بڑھ کر بدنصیب کون ہوگا۔(حجۃ اللہ صفحہ 465‘366سچی
حکایات)

 اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

Http://shanzargar.blogspot.com

Monday, November 12, 2018

دجال

دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا ،دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی ،

رنگ سرخ یا گندمی ہو گا سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ،

اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا .

۔ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا، اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو نگی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے ۔جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گادجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے،درختوں پر پھل آجائیں گے،

کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں باپوں کو زندہ کر دوں تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے ۔اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماں باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ اس کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بالوں کی طرح رواں ہو گی، وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا، تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔ وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہراداری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا،

اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا ۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے، باہر نکلتے ہیں دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا ۔

آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اورخاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے ،مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال کی ا
جازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے،

،چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا ۔جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا کہ میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی۔دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہوجائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا درباری فوراً اس کے دو ٹکڑے کردیں گے،

دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کردو تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا ۔یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں، البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا ۔

دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الہی کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آگیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا لیکن اب اسکی قدرت سلب کر لی جائے گی دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گا لیکن یہ آگ ان کے لئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی،

۔اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے ۔دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا ایک دن ایک سال دوسرا ایک مہینہ اور تیسرا ایک ہفتہ کے برابر ہوگا بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے،

امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی،کیونکہ وہ اپنے مادی وافرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میںدھاک بٹھا چکا ہو گا اس لئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل ہو گی مگر اللہ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہوگا ۔

حضرت مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گے ۔تمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے ۔ ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مہدی علیہ السلام دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کواٹر ہو گا۔امام مہدی علیہ السلام ایک دن نماز پڑھانے کے لئے
مصلے کی طرف بڑھیں گے،تو عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزو ل ہوگا،

نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر اس کو قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر وحجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپاہے ،چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔

پھر وہ صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہو گا ۔


مسلم، ابن ماجہ، ابوداود، ترمذی، طبرانی، حاکم، احمد)
 اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇




Tuesday, November 6, 2018

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصاء مبارک

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو’’عصاءِ موسیٰ‘‘کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اُن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے۔اِس مقدس لاٹھی کی تاریخ بہت قدیم ہےجو اپنے دامن میں سینکڑوں اُن تاریخی واقعات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں عبرتوں اور نصیحتوں کے ہزاروں نشانات ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیںجن سے اہل نظر کو بصیرت کی روشنی اور ہدایت کا نور ملتا ہے۔یہ لاٹھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قد برابر دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور اس کےسر پر دو شاخیں تھیں جو رات میں مشعل کی طرح روشن ہوجایا کرتی تھیں۔ یہ جنت کے درخت پیلو کی لکڑی سے بنائی گئی تھی اور اس کو حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔(تفسیر الصاوی ،ج۱،ص۶۹،البقرۃ:۶۰ )حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ عود (خوشبودار لکڑی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا جو عزت والی پیلو کی لکڑی کا تھا،انجیر کی پتیاں، حجر اسود جو مکہ معظمہ میں ہے اور نبئ معظم حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی یہ پانچوں چیزیں جنت سے اُتاری گئیں۔حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ مقدس عصاء حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یکے بعد دیگرے بطور میراث کے ملتا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ملا جو’’قومِ مدین‘‘کے نبی تھے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا۔ اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اُس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکمِ خداوندی (عزوجل) کے مطابق آپ کو یہ مقدس عصاء عطا فرمایا ۔پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئے۔ اور وادی مقدس مقام ’’طُویٰ‘‘ میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب ِ رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔ اُس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اُس کو اِ س طرح بیان فرمایا کہ!ترجمہ :۔اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اِس میں اور کام ہیں۔(پ 16،طہ:17،18)مَاٰرِبُ اُخْرٰی(دوسرے کاموں)کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مثلاً:۔(۱)اس کو ہاتھ میں لے کر اُس کے سہارے چلنا (۲)اُ س سے بات چیتکر کے دل بہلانا (۳)دن میں اُس کا درخت بن کر آپ پر سایہ کرنا(۴)رات میں اس کی دونوں شاخوں کا روشن ہو کر آپ کو روشنی دینا (۵)اُس سے دشمنوں، درندوں اور سانپوں، بچھوؤں کو مارنا (۶)کنوئیں سے پانی بھرنے کے وقت اس کا رسی بن جانا اور اُس کی دونوں شاخوں کا ڈول بن جانا (۷)بوقتِ ضرورت اُس کا درخت بن کر حسبِ خواہش پھل دینا(۸)اس کو زمین میں گاڑ دینے سے پانی نکل پڑنا وغیرہ(مدارک التنزیل،ج۳،ص۲۵۱،پ۱۶،طہ:۱۸)

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

عزرائیل سے ابلیس تک

#ابلیس
روایت میں آتا ھے کہ ابلیس کو اللہ نے آگ سےبنایا ابلیس نے رٶے زمین کا کوئ کونا ایسا نہ چھوڑا جہاں اسنے عبادت نہ کی کی ھو کائنات کے زرے زرے پر یہ ملحون سجدہ ریز ھوا لیکن لوح محفوظ پر پراسکا نام ابلس درج تھا اسے اپنی عبادتوں پر بہت ناز تھا
روایت میں آتا ھے کہ جب فرشتوں نے لوح محفوظ پر لکھا ھوا دیکھا کہ ان میں سے کوئ ایک لعنتی ھونے والا ھے تو فرشتے بھت روۓ اور مغفرت طلب کرنے لگے ان کے ساتھ ابلیس بھی تھا جسے اپنی عبادت پر ناز تھا اسنے گمان کیا کہ وہ بہت عبادت والا ھے یہ بھلا کیسے ھو سکتا ھے کہ وہ عزازیل سے ابلیس بن جاۓ اور لعنتیوں میں اسکا شمار ھو
اللہ نے آدم کی تخلیق کی سب فرشتوں کو حکم ھوا کہ اسے سجدہ کرو اسے میں نے اپنے ھاتھوں سے بنایا ھے
سب فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا لیکن ابلیس اپنی جگہ اکڑ کر کھڑا رھا یعنی اسکے اندر کی میں نے اسے جھکنے نہ دیا
اللہ نے فرمایا کیوں نہیں جھکتا اسکے آگے جسے میں نے بنایا ھے
وہ لعنتی بولا مولا عبادت تیری کرو تخلیق کرنے والا تو مجھے آگ سے بنایا اسے مٹی سے میں اسے افضل ھوں میں بھلا کیوں جھکو اسکے آگے
اللہ نے فرمایا آج  سے تو عزازیل نہیں ابلیس ھے تجھے عبادت کی توفیق ھم نے دی تھی ساتوں آسمانوں پر تیرا نام ھم ھم نے مختلف رکھا لیکن تو اپنے تکبر اور میں کی وجہ سے مردود ٹھرا
گزارش ھے کہ کبھی تکبر اور میں کو دل میں جگہ نہ دو اپنی عبادات پر ناز نہ کرو شیطان سے زیادہ عبادت کسی نے نہ کی تھی لیکن پھر بھی لعنت کا طوق شیطان کو پہنا دیا گیا
پھلاں دا تو عطر بنا
           عطراں دا تو کڈ دریا
فر اس وچ تو رج رج نہا
          مچھلیاں وانگوں تاریاں لا
فر وی تیری بو نہیں مکنی
         پہلے اپنی ،میں ،تے مکا

  مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

Sunday, November 4, 2018

حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم بندر بن گئی

حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم کے ستر ہزار آدمی ''عقبہ'' کے پاس سمندر کے کنارے ''ایلہ'' نامی گاؤں میں رہتے تھے اور یہ لوگ بڑی فراخی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کا اس طرح امتحان لیا کہ ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار اُن لوگوں پر حرام فرما دیا اور ہفتے کے باقی دنوں میں شکار حلال فرما دیا مگر اس طرح اُن لوگوں کو آزمائش میں مبتلا فرمادیا کہ سنیچر کے دن بے شمار مچھلیاں آتی تھیں اور دوسرے دنوں میں نہیں آتی تھیں تو شیطان نے اُن لوگوں کو یہ حیلہ بتا دیا کہ سمندر سے کچھ نالیاں نکال کر خشکی میں چند حوض بنالو اور جب سنیچر کے دن اُن نالیوں کے ذریعہ مچھلیاں حوض میں آجائیں تو نالیوں کا منہ بند کردو۔ اور اس دن شکار نہ کرو بلکہ دوسرے دن آسانی کے ساتھ اُن مچھلیوں کو پکڑلو۔ اُن لوگوں کو یہ شیطانی حیلہ بازی پسند آگئی اور اُن لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ جب مچھلیاں نالیوں اور حوضوں میں مقید ہو گئیں تو یہی اُن کا شکار ہو گیا۔ تو سنیچر ہی کے دن شکار کرنا پایا گیا جو اُن کے لئے حرام تھا۔اس موقع پر ان یہودیوں کے تین گروہ ہو گئے۔
(۱)کچھ لوگ ایسے تھے جو شکار کے اس شیطانی حیلہ سے منع کرتے رہے اور ناراض و بیزار ہو کر شکار سے باز رہے۔
(۲)اور کچھ لوگ اس کام کو دل سے برا جان کر خاموش رہے دوسروں کو منع نہ کرتے تھے بلکہ منع کرنے والوں سے یہ کہتے تھے کہ تم لوگ ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے۔
(۳)اور کچھ وہ سرکش و نافرمان لوگ تھے جنہوں نے حکم خداوندی کی اعلانیہ مخالفت کی اور شیطان کی حیلہ بازی کو مان کر سنیچر کے دن شکار کرلیا اور ان مچھلیوں کو کھایا اور بیچا بھی۔
جب نافرمانوں نے منع کرنے کے باوجود شکار کرلیا تو منع کرنے والی جماعت نے کہا کہ اب ہم ان معصیت کاروں سے کوئی میل ملاپ نہ رکھیں گے چنانچہ ان لوگوں نے گاؤں کو تقسیم کر کے درمیان میں ایک دیوار بنالی اور آمد و رفت کا ایک الگ دروازہ بھی بنالیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے غضب ناک ہو کر شکار کرنے والوں پر لعنت فرما دی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک دن خطا کاروں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا۔ تو انہیں دیکھنے کے لئے کچھ لوگ دیوار پر چڑھ گئے تو کیا دیکھا کہ وہ سب بندروں کی صورت میں مسخ ہو گئے ہیں۔ اب لوگ ان مجرموں کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے تھے اور ان کے پاس آ کر اُن کے کپڑوں کو سونگھتے تھے اور زار و زار روتے تھے ،مگر لوگ اُن بندر بن جانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے۔ اُن بندر بن جانے والوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ یہ سب تین دن تک زندہ رہے اور اس درمیان میں کچھ بھی کھا پی نہ سکے بلکہ یوں ہی بھوکے پیاسے سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ شکار سے منع کرنے والا گروہ ہلاکت سے سلامت رہا۔ اور صحیح قول یہ ہے کہ دل سے برا جان کر خاموش رہنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہلاکت سے بچا لیا۔

اس واقعہ کا اجمالی بیان تو سورہ بقرہ کی اس آیت میں ہے:۔
:۔اور بے شک ضرور تمہیں معلوم ہے تم کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہو جاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔ (پ1،البقرۃ:65)
اور مفصل واقعہ سورہ اعراف میں ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:۔
(اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی۔ جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے۔ جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے ان کی بے حکمی کے سبب اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا۔ بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو اور شاید انہیں ڈر ہو پھر جب وہ بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچا لئے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے۔ اور ظالموں کو بُرے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا۔ پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دتکارے ہوئے)۔ (پ۹،الاعراف:۱۶۳تا۱۶۶)
 شیطانی حیلہ بازیوں میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیوں کا انجام کتنا برا اور کس قدر خطرناک ہوتا ہے۔ اور خدا کے نبی جن بدنصیبوں پر لعنت فرما دیں وہ کیسے ہولناک عذابِ الٰہی میں گرفتار ہو کر دنیا سے نیست و نابود ہو کر عذاب نار میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ اور دونوں جہاں میں ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں۔ (نعوذباللہ منہ)
اصحابِ ایلہ کے اس دل ہلا دینے والے واقعہ میں ہر مسلمان کے لئے بہت بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کا سامان ہے۔ کاش!اس واقعہ سے مسلمانوں کے قلوب میں خوفِ خداوندی کی لہر پیدا ہوجائے اور وہ اللہ و رسول کی نافرمانیوں کی پگڈنڈیوں میں بھٹکنے سے منہ موڑ کر صراط مستقیم کی شاہراہ پر چل پڑیں اور دونوں جہانوں کی سربلندیوں سے سرفراز ہو کر اعزاز و اکرام کی سلطنت کے تاجدار بن جائیں ۔

  مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
http://www.ilmkikehkashan.com



Friday, November 2, 2018

جنت کے بارے حیرت انگیز تفصیل

* جنت کے بارے میں دلچسپ اور حیرت انگیز تفصیل *
اس تفصیل دینے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے دل میں اس کے حصول کا شوق پیدا ہو اور آپ اچھے اعمال سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس فانی دنیا کو آخرت کی زندگی پر ترجیح نہ دیں۔
جنت کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ان کے اچھے اچھے اعمال کا اپنے فضل و کرم سے بدلہ اور انعام دینے کے لئے آخرت میں جو شاندار مقام تیار کررکھا ہے اُس کا نام جنت ہے اور اُسی کو بہشت بھی کہتے ہیں۔
جنت میں ہر قسم کی راحت و شادمانی و فرحت کا سامان موجو د ہے۔ سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے لمبے چوڑے اور اُونچے اُونچے محل بنے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ ریشمی کپڑوں کے خوبصورت و نفیس خیمے لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرف طرح طرح کے لذیذ اور دل پسند میوؤں کے گھنے، شاداب اور سایہ دار درختوں کے باغات ہیں۔ اور ان باغوں میں شیریں پانی، نفیس دودھ، عمدہ شہد اور شرابِ طہور کی نہریں جاری ہیں۔
قسم قسم کے بہترین کھانے اور طرح طرح کے پھل فروٹ صاف ستھرے اور چمکدار برتنوں میں تیار رکھے ہیں ۔ اعلیٰ درجے کے ریشمی لباس اور ستاروں سے بڑھ کر چمکتے اور جگمگاتے ہوئے سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے زیورات ، اونچے اونچے جڑاؤ تخت ، اُن پر غالیچے اورچاندنیاں بچھی ہوئی اور مسندیں لگی ہوئی ہیں۔ عیش ونشاط کے لئے دنیاکی عورتیں اورجنت کی حوریں ہیں جوبے انتہاحسین وخوبصورت ہیں۔ خدمت کے لئے خوبصورت لڑکے چاروں طر ف دست بستہ ہر وقت حاضر ہیں الغرض جنت میں ہر قسم کی بے شمار راحتیں اور نعمتیں تیار ہیں۔ اور جنت کی ہر نعمت اتنی بے نظیر اور اس قدر بے مثال ہے کہ نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا ،نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ جنّتی لوگ بِلا روک ٹوک اُن تمام نعمتوں اور لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر جنت میں سب سے بڑی یہ نعمت ملے گی کہ جنت میں جنتیوں کوخداوندقدوس عزوجل کادیدارنصیب ہوگا۔جنت میں نہ نیندآئے گی نہ کوئی مرض ہوگانہ بڑھاپاآئے گانہ موت ہوگی۔جنتی ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ہمیشہ تندرست اور جوان ہی رہیں گے۔
اہلِ جنت خوب کھائیں پئیں گے مگرنہ ان کوپیشاب پاخانہ کی حاجت ہوگی نہ وہ تھوکیں گے نہ ان کی ناک بہے گی۔ بس ایک ڈکار آئے گی اور مُشک سے زیادہ خوشبو دار پسینہ بہے گا اور کھانا پینا ہضم ہوجائے گا۔ جنتی ہر قسم کی فکروں سے آزاد اور رنج و غم کی زحمتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ہمیشہ ہر دم اور ہر قدم پر شادمانی اور مسرت کی فضاؤں میں شادو آباد رہیں گے اور قسم قسم کی نعمتوں اور طرح طرح کی لذتوں سے لطف اندوزو محظوظ ہوتے رہیں گے۔ (خلاصہ قرآن و حدیث)
جنت کہاں ہے؟
زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جنت ساتویں آسمان کے اوپر ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے کہ
عِنۡدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی ﴿۱۴﴾عِنۡدَہَا جَنَّۃُ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۱۵﴾
(پ۲۷،النجم:۱۴،۱۵)
یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔
اور ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ جنت کی چھت عرش پر ہے۔
شرح المقاصد،المبحث الخامس،الجنۃ والنار...الخ،ج۳،ص۳۶۱
(حاشیہ شرح عقائد نسفیہ،ص۸۰
جنت کی منزلیں
حدیث شریف میں ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان ایک سو برس کی راہ ہے۔(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)
اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جنتی لوگ جنت کے بالا خانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ زمین سے مشرق یا مغرب میں چمکنے والے تاروں کو دیکھا کرتے ہو۔(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۶)
جنت کے پھاٹک
حدیث شریف میں ہے کہ جنت کے پھاٹک اتنے بڑے بڑے ہیں کہ اس کے دونوں بازوؤں کے درمیان چالیس برس کا راستہ ہے مگر جب جنتی جنت میں داخل ہونے لگیں گے تو ان پھاٹکوں پر ہجوم کی کثرت سے تنگی محسوس ہونے لگے گی۔
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)
جنت کے باغات
ایک روایت میں ہے کہ جنت کے تمام درختوں کے تنے سونے کے ہیں۔(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)
جنت کی عمارتیں
جنت کی عمارتوں میں ایک اینٹ سونے کی اورایک اینٹ چاندی کی ہے اوراس کاگارا نہایت ہی خوشبو دار مشک ہے اور اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی دھول زعفران ہے۔ (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)
اور یہ بھی مروی ہے کہ بعض عمارتیں نُور کی اور بعض یاقوت سُرخ کی اور بعض زمرد کی ہیں۔ (روح البیان،ج۱،ص۸۲)
جنت کی نہریں اور حوضِ کوثر
جنت میں شیریں پانی، شہد ، دودھ اور شراب کی نہریں بہتی ہیں۔ (مشکوٰۃ،ج۲،ص۵۰۰)
جب جنتی پانی کی نہر میں سے پئیں گے تو انہیں ایسی حیات ملے گی کہ پھر انہیں موت نہ آئے گی اور جب دودھ کی نہر میں سے نوش کریں گے تو ان کے بدن میں ایسی فربہی پیدا ہوگی کہ پھر کبھی لاغر نہ ہوں گے اور جب شہد کی نہر میں سے پی لیں گے تو انہیں ایسی صحت وتندرستی مل جائے گی کہ پھر کبھی وہ بیمار نہ ہوں گے اور جب شراب کی نہر میں سے پلائے جائیں گے تو انہیں ایسا نشاط اور خوشی کا سرور حاصل ہوگا کہ پھر کبھی وہ غمگین نہ ہوں گے۔(روح البیان،ج۱،ص۸۲)
یہ چاروں نہریں ایک حوض میں گررہی  ہیں جس کا نام''حوضِ کوثر'' ہے یہی حوض حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا وہ حوضِ کوثر ہے جو ابھی جنت کے اندر ہے لیکن قیامت کے دن میدانِ محشر میں لایا جائے گا،جہاں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس حوض سے اپنی اُمت کو سیراب فرمائیں گے۔(روح البیان،ج۱،ص۸۳)
جنت کے چشمے
اِن چاروں نہروں کے علاوہ جنت میں دوسرے چشمے بھی ہیں جن کے نام یہ ہیں:(۱)کافور (۲)زنجبیل (۳)سلسبیل (۴) رحیق (۵)تسنیم۔ (روح البیان،ج۱،ص۸۳)
اہلِ جنت کی عمریں
ہر جنتی خواہ بچپن میں مرا ہو یا بوڑھا ہو کر وفات پائی ہو، ہمیشہ جنت میں اُس کی عمر تیس ہی برس کی رہے گی اس سے زیادہ کبھی اس کی عمر نہیں بڑھے گی۔ اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی طرح جوان رہتے ہوئے آرام و راحت کی زندگی بسر کرتا رہے گا۔ (ترمذی،ج۲،ص۸۰)
جنتیوں کی بیویاں اور خُدّام
ادنیٰ درجے کے جنتی کو اسّی ۸۰ہزار خادم اور بہتّر۷۲ بیویاں ملیں گی اوراس کے لئے موتی اورزبرجدویاقوت کااِتنالمباچوڑاخیمہ گاڑاجائے گاجتناکہ جابیہ اور صنعاء کے دوشہروں کے درمیان فاصلہ ہے۔(ترمذی،ج۲،ص۸۰)
حوروں کا جلسہ اور گانا
جنت میں حوروں کا جلسہ ہوگا جس میں حوریں اس مضمون کا گانا سنائیں گی کہ ''ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں تو ہم کبھی فنا نہ ہوں گی۔ ہم چین میں رہنے والیاں ہیں تو ہم کبھی غمگین نہیں ہوں گی۔ہم خوش ہونے والیاں ہیں توہم کبھی ناراض نہ ہواکریں گی۔ مبارک باد ہے ان کے لئے جوہمارے لئے ہوں اور ہم اُن کے لئے ہوں۔'' (ترمذی،ج۲،ص۸۰)
جنت کے بازار
ہر جمعہ کے دن جنت میں ایک بازار لگے گا کہ اُس میں شمالی ہوا چلے گی جو جنتیوں کے چہروں اور کپڑوں پرلگے گی تو اُن کے حسن و جمال میں نکھار پیدا ہو کر وہ بہت زیادہ خوبصورت ہوجائیں گے اور جب وہ بازار سے پلٹ کر اپنے گھر جائیں گے تو اُن کے گھر والے کہیں گے کہ تم تو خداکی قسم!حسن و جمال میں بہت بڑھ گئے ہو۔ تو یہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے پیچھے تم لوگوں کا حسن و جمال بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۶)
جنت میں خداعزوجل کا دیدار
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے توخدا عزوجل کاایک منادی یہ اعلان کریگاکہ اے اہلِ جنت!ابھی تمہارے لئے اللہ عزوجل کا ایک اور وعدہ بھی ہے۔ تو اہلِ جنت کہیں گے کہ اللہ عزوجل نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاہے!کیا اللہ عزوجل نے ہم کو جہنم سے نجات دے کر جنت میں نہیں داخل کردیا ہے؟ تومنادی جواب دے گا کہ کیوں نہیں!پھر ایک
دم خداوند قدوس عزوجل اپنے حجاب اقدس کو دور فرمادے گا (اور جنتی لوگ خدا عزوجل کا دیدار کرلیں گے)تو جنتیوں کو اس سے زیادہ جنت کی کوئی نعمت پیاری نہ ہوگی۔
(ترمذی،ج۲،ص۷۸)
اسی طرح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے تو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے چودھویں رات کو چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ عنقریب (قیامت کے دن)اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے جس طرح تم لوگ چاند کو دیکھ رہے ہو۔(یعنی جس طرح چاند کو دیکھنے میں کوئی کسی کے لئے حجاب اور آڑ نہیں بنتا اِسی طرح تم لوگ اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے) تو اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نماز فجر و نمازعصر کبھی نہ چھوڑو۔(مشکوٰۃ،ج۲،ص۵۰۰)
اے اللہ ہمیں معاف فرما اور ہمیں جنت الفردوس عطاء فرما۔ آمین


Wednesday, October 31, 2018

ابلیس اور جنات کے اثرات


اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کئی عالم تخلیق کئے، اس کرہ ارض پر دو ایسی مخلوقات ہیں جن کی ہدایت کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام اور رسل مبعوث فرمائے ان کیلئےاللہ تعالیٰ نے سزا و جزا کا تصور پیش کیا یعنی یوم آخرت ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دو مخلوقات انسان اور جن ہیں۔ جنات کی دنیا اسرار کے پردے چھپی رہتی ہے ۔ جنات انسانوں کی نـظروں سے پوشیدہ کر دئیے گئے۔ زمین پر انسان کو اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے جنات کو مختلف جزائر اور ویران جگہوں تککر دیا۔ جنات کے 
مقید کرنے کا واقعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ انسان کو زمین پر اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سردار ابلیس کو بارگاہ میں طلب فرمایا۔ ابلیس جنات میں سے تھا اور آگ سے پیدا کیا گیا تھا اور اللہ کے نہایت برگزیدہ فرشتوں میں شمار ہوتا تھا ۔ اس کو رب تعالیٰ نے اس قدر علم عطا کر رکھا تھا کہ وہ اس علم کی بنیاد پر فرشتوں کا سردار بنا۔ ابلیس کو حکم دیا گیا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اترو اور جنات جو زمین پر فساد اور لڑائی جھگڑوں میں مشغول ہیں انہیں ویران جزائر اور پہاڑی غاروں میں قید کر دیا جائےجو ایک خاص مقررہ وقت تک وہاں قید رہیں گے۔ ابلیس بارگاہ الٰہی سے حکم لے کر فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اتر اور جنات کو نہایت قلیل وقت میں مختلف ویران جزائر اور پہاڑی غاروں اور ویرانوں میں قید کر دیا گیا جو ایک روایت کے مطابق حضرت سلیمان ؑ کے دور تک قید میں رہےاور پھرمشیت ربی کے تحت انہیں آزادی ملی اور وہ دنیا میں چلنے پھرنے لگے۔ جنات کو قید کرنے کے بعد عرش الٰہی تک ابلیس کا فرشتوں کی جماعت کے ساتھ سفر شروع ہوا۔ دوران سفر ابلیس کے دل میں غرور اور تکبر نے سر اٹھایا اور اس نے نہایت قلیل وقت میں نہایت طاقتور جنات کو قید کرنے سے متعلق غرور کیا۔ اس کی خبر رب تعالیٰ کو تو ہو گئی مگر دیگر فرشتے اس سے بے خبر رہے۔ 
روایات میں آتا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب ابلیس نے غرور کیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے غرور کو طشت ازبام کرنے کیلئے آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے انکار کر دیا کیونکہ جنات کو قید کرنے کے بعد اس کے دل میں غرور اور تکبر آچکا تھا ۔ ’’میں آگ سے بنا ہوں ، یہ مـٹی کی پیداوار، میرا اور اس کا کیا جوڑ کہ میں اس مٹی کے پتلے کو سجدہ کروں‘‘حکم تعالیٰ سے انکار پر ابلیس کو راندہ درگاہ کرتےہوئے شیطان ٹھہرا دیا گیا۔ حضرت سلیمان ؑ کے دور میں مشیت ایزدی اور مقررہ وقت پورا ہو چکا تھا جس کے بعد جنات قید سے نکل کر دوبارہ زمین پر فساد برپا کرنے لگے۔ حضرت سلیمانؑ کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ آپ شیاطین جنات کو قابو کر لیتے اور انہیں سزا کے طور پر دوبارہ قید میں ڈال دیتے۔ جنات کے وجود کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہوا ہے اور ایک پوری سورہ ’’سورۃ جن‘‘کے نام سے موجود ہے۔مسجد الجن، مسجد حرام کی شمال کی جانب تین کلومیٹر کی مسافت پر واقع تاریخ اسلام کی عظیم یادگارسجھی جاتی ہے۔ کتب تاریخ میں اس کی شہرت کے اور بھی کئی واقعات ملتے ہیں تاہم اس کی سب بڑی وجہ شہرت یہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جنات کی ایک جماعت کا قبول اسلام کا واقعہ ہے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مسجد حرام کے شمال میں تین ہزار میٹر کے فاصلے پر جہاں آج ‘مسجد الجن موجود ہےجنات کی ایک جماعت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ آپ سے قران پاک سُنا۔ 
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سوالوں کے جواب دیے۔مستند تاریخی مصادر اور کتب سِیَر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار آپ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود کو ہمراہ لیے رات کے وقت اس جگہ پہنچے۔ آپ نے عبداللہ بن مسعود کو ایک خاص مقام سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا تاکہ کہیں جنات انہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ پھر آپ کی ملاقات جنات کے ایک گروپ سے ہوئی، جنہوں اسلام قبول کیا اور آپ سے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔ قرآن پاک کی سورہ الجن وہیں اور اسی واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی۔بعد ازاں اسی مناسبت سے وہاں ایک وسیع وعریض مسجد تعمیر کی گئی، جسے ‘مسجد الجن کا نام دیا گیا۔ مرور زمانہ کے ساتھ مسجد کی تعمیر و مرمت کے دورن اس کے ڈیزائن بدلتے رہے ہیں مگر اس کے قیام کا واقعہ آج تک مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ الحرمین الشریفین کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے ‘مسجد الجن کی زیارت بھی کرتے ہیں۔ ماہ صیام میں یہاں افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے آئے زائرین اور معتمرین عقیدت واحترام کے ساتھ اس مسجد میں حاضر ہوتے، عبادت کرتے اور افطار میں شرکت کرتے ہیں۔جنات کے انسانوں پر اثر انداز ہونے کے واقعات بھی آئے روز ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں۔ یہ انسانی جسم میں داخل ہو کر اس سے عجیب و غریب حرکات کرواتے ، ایـذا پہنچاتے ہیں ۔ اس کے پیچھے چند عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جنات کیسے انسانی جسم پر حاوی ہوتے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو عام آدمی نہیں جانتا۔ابن تیمیہ کے مطابق انسان جب نیکی سے غافل ہو کر برائی کی جانب راغب ہوتا ہے تو بد اثرات سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بـڑھ جاتا ہے۔ ہوس پرستی اور فحاشی کی حالت میں بھی برائی انسان پر غالب آجاتی ہے اور ایسے میں جنات جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جن بھی کئی معاملات میں انسانوں کی طرح ہوتے ، وہ پسندیدگی و ناپسندیدگی اور اچھائی یا برائی جیسے جذبات بھی رکھتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ محض آپ کے چہرے کو ناپسند کرتے ہوں اور آپ کے جسم پر قبضہ کر لیں۔ دوسری جانب جناب کو انسان سے محبت بھی ہو سکتی ہے۔ 
وہ کسی کو برہنہ دیکھ کر بھی اس پر فریفتہ ہو سکتے ہیں اور اس کے جسم پر قابض ہو سکتے ہیں، یہ معاملہ خواتین کے ساتھ زیادہ پیش آتا ہے۔ چونکہ جن انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اس لئے بعض اوقات ہم انجانے میں انہیں نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں، مثال کے طور پر آپ کہیں گرم پانی انڈیلتے ہیں، یا کسی درخت یا پتھر کی اوٹ میں بیٹھ کر رفع حاجت کرتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ یہاں جنات کا بسیرا ہے اور آپ کے اس عمل سے وہ ناراض ہو سکتے ہیں اور بدلہ لینے کیلئے آپ کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔بہت زیادہ خوف کی حالت یا ایسے معاملات جن سے دور رہنا چاہئے اور آپ اس کی ٹوہ میں ہوتے ہیں تو تب بھی جنات آپ پر غالب آسکتے ہیں۔ جنات جسم کے کس حصے سے داخل ہو کر انسان پر قبضہ جماتے ہیں اس کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں تاہم قرین از قیاس یہ ہے کہ انسان کی موت کے وقت روح انسانی ناخنوں، ناک، آنکھ اور منہ سے نکلتی ہے اور یہی جگہ ایسی ہوتی ہیں جہاں سے جنات انسانی جسم میں داخل ہو کر قبضہ جماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو شر سے بچنے کیلئے کئی طریقے بتائے ہیں جن میں حضور اکرم ﷺ کے ذریعے تعلیم بھی دی گئی اور کئی ایسی مسنون دعائیں اور وظائف موجود ہیں جن کے ذریعے جنات کا توڑ کیا جا سکتا ہے۔ 

Sunday, April 1, 2018

حجر اسود کا عجیب تاریخی واقعہ

حجر اسود کا عجیب تاریخی واقعہ
7 ذی الحجہ 317ھ کو بحرین کے حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کر لیا خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال 317ھ کو حج بیت اللہ شریف نہ ہو سکا کوئی بھی شخص عرفات نہ جا سکا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ اسلام میں پہلا موقع تھا کہ حج بیت اللہ موقوف ہو گیا۔۔۔ اسی ابو طاہر قرامطی نے حجر اسودکو خانہ کعبہ سے نکالا اور اپنے ساتھ بحرین لے گیا۔ پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر قرامطی کے ساتھ فیصلہ کیا اور تیس ہزار دینار دے دیے۔
تب حجر اسود خانہ کعبہ کو واپس کیا گیا۔ یہ واپسی 339ھ کو ہوئی، گویا کہ 22 سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا۔ جب فیصلہ ہوا کہ حجر اسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلے میں خلیفہ وقت نے ایک بڑے عالم محدث شیخ عبداللہ کو حجر اسود کی وصولی کے لیے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا۔۔ یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچ گئے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں حجر اسود کو ان کے حوالہ کیا گیا تو ان کے لیے ایک پتھر خوشبودار۔۔ خوبصورت غلاف میں سے نکالا گیا کہ یہ حجر اسود ہے اسے لے جائیں۔ محدث عبداللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود میں دو نشانیاں ہیں اگر یہ پتھر اس معیار پر پورا اترا تو یہ حجر اسود ہوگا اور ہم لے جائیں گے۔ پہلی نشانی یہ کہ پانی میں ڈوبتا نہیں ہے دوسری یہ کہ آگ سے گرم بھی نہیں ہوتا۔ اب اس پتھر کو جب پانی میں ڈالا گیا تو وہ ڈوب گیا پھر آگ میں اسے ڈالا تو سخت گرم ہو گیا۔۔ فرمایا ہم اصل حجر اسود کو لیں گے پھر اصل حجر اسود لایا گیا اور آگ میں ڈالا گیا تو ٹھنڈا نکلا پھر پانی میں ڈالا گیا وہ پھول کی طرح پانی کے اوپر تیرنے لگا تو محدث عبداللہ نے فرمایا یہی ہمارا حجر اسود ہے اور یہی خانہ کعبہ کی زینت ہے اور یہی جنت والا پتھر ہے۔

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

http://www.ilmkikehkashan.com
Http/Shanzargar.blogspot.com

Friday, July 28, 2017

وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں


آپ نے کھجور تو کھائی ہی ہـوگی۔۔۔۔۔ کھجور کے اندر سے ایک گھٹلی نکلتی ہـے۔۔۔۔۔ اس گھٹلی میں ایک لکیر سی ہـوتی ہـے۔۔۔۔۔ اس لکیر پر ایک باریک سا چھلکا ہـوتا ہـے ۔۔۔۔۔اس چھلکے کو عربی میں "قطمیر" کہتے ہیں۔۔۔۔۔ جن لوگوں کو اللہ کے سوا حاجت روا سمجھ کر پکارا جاتا ہـے۔۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک فرماتا ہـے وہ اس چھلکے کے بھی مالک نہیں۔۔۔۔۔۔۔ *
”وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ۔“ (الفاطر : 13)
"جنہیں تم اس کے سوا پکار رہـے ہـو وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔"
يا اللہ ہم سب کے دلوں میں ہدایت ڈال دیں
آمین۔۔۔
Http://shanzargar.blogspot.com