Wednesday, November 21, 2018

دماغ کے بارے میں حیرت انگیز حقائق

ایک بالغ انسانی دماغ کا وزن لگ بھگ تین پونڈ ہوتا ہے۔ مردوں کے دماغ کا اوسط وزن 2.9 پونڈ(1336 گرام) اور خواتین کا 2.6 پونڈ(1198 گرام) ہوتا ہے، مگر بڑے دماغ کا مطلب زیادہ ذہانت نہیں ، درحقیقت البرٹ آئن اسٹائن کے دماغ کا وزن 2.7 پونڈ ہی تھا پھر بھی وہ دنیا کے ذہین ترین انسانوں میں سے ایک تھا۔
آپ کا دماغ اتنی بجلی پیدا کرسکتا ہے جس سے 25 واٹ کا بلب روشن کیا جاسکتا ہے۔
بہت کم افراد کو "مشارکی" کا احساس ہوتا ہے ۔ یعنی ایک حس کا دوسری حس میں شامل ہوجانا۔دیکھنے کی حس سننے کی حس میں مشارکت کرلے۔ سونگھنے کی حس چھونے کی حس سے مشارکت کرلے۔ وغیرہ مثلا وہ رنگوں کو سن سکتے ہیں، الفاظ کو سونگھ سکتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا لیکن یہ احساس بہت کم لوگوں کو ہوتاہے۔ جس کو ہم چھٹی حس سے اکثر تعبیر کردیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں حواس خمسہ کا ہی ذکر ہے۔
یہ بات بالکل غلط ہے کہ انسان اپنے دماغ کا دس فی صد حصہ بھی استعمال نہیں کرپاتا۔ درحقیقت انسان اپنے دماغ کا دس فی صد سے بھی زیادہ حصہ استعمال کرپاتا ہے کیوں کہ دماغ کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں جو فعال نہ ہو۔
بیش تر دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد زبان کا تجزیہ اپنے دماغ کے بائیں حصے سے کرتے ہیں مگر لیفٹ ہینڈ افراد کئی بار دونوں حصوں کو استعمال کرپاتے ہیں۔
انسانی دماغ کی نشوونما پچیس سال کی عمر تک جاری رہتی ہے۔ اس کے بعد دماغ کا سائز بڑھنا رک جاتا ہے۔
دماغ وہ واحدعضو ہے جو خود کو خیالات سے آلودہ کرسکتا ہے۔
دماغ سوتے ہوئے خواب کیوں دیکھتے ہیں تاحال ایک سائنسی اسرار ہے۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ہمارے دماغ کی ورزش کا طریقہ ہے جو وہ نیند کے دوران اختیار کرتا ہے، دیگر کا دعویٰ ہے اس سے دماغ کو دن بھر کی یاداشتوں اور خیالات کو جذب کرنے میں مدد ملتی ہے۔
فیس بلائنڈ نیس نامی عارضہ(یعنی چہروں کی پہچان بھول جانا) ڈھائی فیصد آبادی کو اپنا ہدف بناتا ہے۔ا سٹینفورڈ یونیورسٹی کی 2012 کی ایک تحقیق کے دوران دماغ کے وہ حصے جو دماغ کو شناخت کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں ، اگر ان کو کوئی نقصان پہنچے تو اس سے لوگوں کے لیے چہرے یاد رکھنا ممکن نہیں ہوپاتا اور وہ لوگ انسانی چہروں کو یاد رہنے کے قابل اشیا میں دیکھتے ہیں۔
آپ خود کو گدگدی نہیں کرسکتے کیوں کہ حرام مغز آپ کو ایسا کرنے سے روکتا ہے۔ حرام مغز، جو جسمانی حرکت کا ذمے دار ہوتا ہے سنسنی کے احساس کی پیش گوئی اور ردعمل کو روکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کوئی شخص خود کو گدگدی نہیں کرسکتا حالاں کہ یہ عادت زمانہ ماضی میں سماجی تعلق کی مضبوطی کی ایک قسم سمجھی جاتی تھی۔
کچھ معاشروں میں جانوروں کا دماغ لذیذ غذا سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ہم پاکستان کے لوگ بکروں اور گائے کے مغز شوق سے کھاتے ہیں۔ ہا ں یاد رہے دل کے مریضوں کے لئے مغز اور پائے نقصان دہ ہیں۔کیونکہ ان میں کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے۔
آپ کا دماغ پورے جسم کو ملنے والی آکسیجن کا کم از کم 20 فی صد حصہ استعمال کرتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ کو آپ کے پٹھوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ کے دماغ میں درد کو محسوس کرنے والے ریسیپٹر یا حسی عضو نہیں ہوتے تو درحقیقت آپ کو دماغ کو ’درد‘ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اگرچہ دماغ ہماری ریڑھ کی ہڈی کی مدد سے درد کو شناخت اور پراسیس کرتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دماغی خلیات اور حصوں کو درد محسوس ہی نہیں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دماغی سرجری کسی فرد کی بیداری کے دوران بھی ہوجاتی ہے۔
جو لوگ اعضا ء سے محروم ہوجاتے ہیں وہ شیشے کو بطور تھراپی استعمال کر کے خیالی درد پر قابو پاسکتے ہیں۔ایسا خیالی درد نوے فیصد اعضا سے محروم ہوجانے والے افراد کو محسوس ہوتا ہے تاہم شیشے کی تھراپی دماغ کو معمول کے سنسری پیٹرن میں واپس لوٹانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
Http://Shanzargar.blogspot.com

Tuesday, November 20, 2018

بادشاہ اور اجنبی شخص

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے - بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-
كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور سدها كر بيچنے كا كاروبار كرتا تها – جب وه شخص حاضر هوا تو بادشاه نے اس شخص سے دریافت کیا كہ تم نے تو مجهے یہ گهوڑا اصيل اور نسلى کہ کر بيچا تها ليكن يہ تو نسلى نہیں – اس شخص نے جواب ديا كہ بادشاه سلامت گهوڑا ہے تو نسلى ليكن اسكى پيدائش كے وقت اسكى ماں مر گئى تهى چنانچہ يہ گهوڑا ايک گائے كا دودھ پى كر اور اسی گائے کے زیر سایہ پلا ہے اور بچپن اسنے گائے كے ساتھ ہى گذارا ہے
بادشاه نے اس شخص كو رخصت كيا اور اپنے اصطبل كے مسئول كو بلا كر پوچها كہ تم كو كيسى پتا چلا كہ گهوڑا اصيل نہیں – اسنے جواب ديا كہ گهوڑا جب گھاس كهاتا ہے تو سر نيچے كر كى گائیوں كى طرح گهاس كهاتا هى جبكہ نسلى گهوڑا گهاس منہ ميں لے كر سر اٹها ليتا ہے
بادشاه اسكى فراست سے خاصا متاثر اور حيران هوا اور اسكى گهر ميں اناج ، ، گھی ، بهنے دنبے اور پرندوں كا اعلى گوشت بطور انعام بھجوایا
اسکے ساتھ ساتھ اسكو اپنى بيگم كے محل ميں تعينات كر ديا – كچھ عرصه گذرنے كے بعد اسنے اپنے مصاحب سے اپنى بيگم كے بارى ميں رائے مانگی تو اسنے جواب ديا كہ اسكى طور اطور تو ملكہ جيسے ہیں ليكن شهزادى (كسى بادشاه كى بيٹى) نہیں ہے – يہ سن كر بادشاه كے پيروں تلے سے زمين نكل گئى كيونكہ اسكى بيوى ايک بادشاه كى بيٹى تهى –بادشاه نے اپنے حواس درست کیے اور اپنى ساس كو بلا بهيجا اور معامله اسكى گوش گذار كيا – بادشاه كى ساس نے اسے جواب ديا كہ حقيقت يہ هے كہ تمارے باپ نے ميرے مياں سے ہمارى بيٹى كي پيدائش پر ہی اسكا رشته مانگ ليا تها ليكن همارى بيتى 6 ماه كى عمر ميں فوت هو گئى چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے واسطے اس بچی کو اپنى بيٹى بنا ليا اور اسكى پرورش كر کے تمہارے ساتھ اس کی شادی کر دی
بادشاه نے مصاحب سے دريافت كيا كہ تم كو كيسے پتا چلا كہ ميرى بيوى شهزادى نہیں ہے – اسنے كہا كہ اسكا سلوک خادموں كے ساتھ ٹھيک نہيں اور بادشاه اسطرح نہیں كرتے
بادشاه اپنے مصاحب كى فراست سے مزید متاثر هوا اور بہت سا اناج اور بهيڑ بكرياں بطور انعام اس مصاحب كو دين اور اسکے ساتھ ساتھ اسے اپنے دربار ميں متعين كر ديا – كچھ عرصه گزرنے كے بعد اسنے اپنے اس مصاحب سے اپنى بارے ميں دريافت كيا – مصاحب نے كہا كہ اگر جان كى امان پاؤں تو عرض كروں – بادشاه نے اس سے جان كى امان كا وعده كيا تو اسنے كہا كہ تم هو تو بادشاه ليكن نہ تم بادشاه كى بچے ہو نہ تو تمہارا چال چلن بادشاہوں جيسا ہے

یہ سن کر بادشاه كے پاؤں تلے زمين نكل گئى امان كا وعده وه پہلے ہی دے چكا تها چنانچہ وه اس گتهى كو بهى سلجهانے اپنى والده كے محل جا پہنچا تا كہ پتا چلے كہ ماجرا كيا ہے
اس كى والده نے اسكى بات سن كر كہا كہ ہاں تم بادشاه كے نہیں بلكہ ايک چرواہے كے بيٹے ہو
بادشاه نے مصاحب كو بلايا اور اس سے پوچها كہ تمہیں كيسے پتا چلا كہ ميں بادشاه كا بيٹا نہیں ہوں – مصاحب نے بادشاہ کو جواب دیا كہ بادشاه جب كسى كو انعام و اكرام ديا كرتے ہیں تو ہيرے موتی اور جواہرات كى شكل ميں ديتے ہيں ليكن تم جب بهى كسى كو انعام و اكرام سے نوازتے ہو تو اناج اور بهيڑ بكرياں اور كهانے پينے كي چيزيں عنايت كرتے ہو يہ اسلوب كسى بادشاه كے بيٹے كا نہیں بلكہ كسى چرواہے كے بيٹے كا ہی ہو سكتا ہے..!!
 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
https://shanzargar.blogspot.com

Monday, November 19, 2018

بچھو کے انوکھے راز

 ایک مثل مشہور
سانپ سُلائے ‘ بچھو رُلائے ( یعنی سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر غنودگی طاری ہوتی ہے اور بچھو کا ڈسا ہوا روتا اور چلاتا رہتا ہے)۔
جانوروں کے زمرے میں بچھو کرہ ارض کا سب سے قدیم باسی ہے۔
بچھو کا تعلق چیونٹیوں ‘ چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں اور دوسرے آٹھ ٹانگوں والے حشرات الارض کے خاندان سے ہے۔
پوری دنیا میں اس کی پانچ سو سے زائد مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔
جسامت کے لحاظ سے ان میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر شکل و شباہت ان کی یکساں ہوتی ہے۔
بعض بچھو تو جھینگا مچھلی سے گہری مشابہت رکھتے ہیں۔
بچھو بڑا ہی موذی اور خطرناک ہوتا ہے اگرچہ اس کے ڈسنے سے موت تو واقع نہیں ہوتی ‘ مگر ناقابل برداشت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔
ایک کمزور آدمی شاید اس کے ڈنک سے مر بھی جائے۔
بچھو کی مختلف اقسام میں سب سے خطرناک ‘ز ہریلا اور موذی ” کالا بچھو“ ہوتا ہے جس کی لمبائی 6 اور 8 سے دس انچ تک ہوتی ہے اور رنگت بہت سیاہ ۔
کہا جاتا ہے کہ یہ بچھو اگر سانپ کو کاٹ لے تو وہ بھی اس کے زہر سے مر جائے گا۔
شکم کا اگلا حصہ اس کے سر اور جڑے ہوئے سینے پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں سات حلقہ نما حصے ہوتے ہیں۔
شکم سے پچھلا حصہ پانچ حلقہ نما ٹکڑوں میں بٹا ہوا اور دبلا پتلا سا ہوتا ہے۔
شکم کے پچھلے حصے میں اس کی دم ہوتی ہے جس کے آخری سرے پر ایک چھوٹی سی زہر کی تھیلی ہوتی ہے اس تھیلی کے منہ پر ایک سخت ‘ خم دار اور نوکیلا کانٹا ہوتا ہے ‘ اسے ڈنک کہتے ہیں۔
ڈنک کا خم اس نوعیت کا ہوتا ہے کہ جب تک بچھو اپنے شکم کے پچھلے حصے کو اوپر نہ اٹھائے ڈنک کام نہیں دے گا۔
ڈنک مارنے کیلئے اسے اپنے جسم کے پچھلے حصے کو اوپر اٹھا کر آگے کو پھینکنا پڑتا ہے ۔
اس کے ڈنک میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے شکار کے جسم میں زہر داخل کرتا ہے۔
زہر کا ذخیرہ دُم کے آخری حصے میں جمع ہوتا ہے۔
عام بچھو کے ڈس لینے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ڈسی ہوئی جگہ پر تیز درد ہوتا ہے اور وہ جگہ بالکل سن ہو جاتی ہے اور وہ جگہ پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے۔
اس کا درد بھنور کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ با ت بھی عام ہے کہ ڈسنے کے بعد جب تک بچھو زندہ رہے گا یہ درد بڑھتا جائے گا۔
 کالے بچھو کے زہر کے اثرات ” کچلے“ سے مشابہ ہوتے ہیں۔ اس کے ڈنک سے سخت درد ہوتا ہے اور قوت گویائی سلب ہو جاتی ہے۔
منہ سے کثیر تعداد میں لعاب خارج ہوتا ہے ۔ مریض سخت بے چین ہو جاتا ہے ۔ سانس لینا دشوار اور اکثر اوقات موت واقع ہو جاتی ہے۔
بچھو دھوپ اور گرمی سے بہت گھبراتے ہیں اور اگر کبھی ایسے ڈبے میں انہیں بند کر دیا جائے جس میں گرمی زیادہ ہو تو یہ فوری طور پر مر جائیں گے۔
چلچلاتی دھوپ میں اسے چند منٹ رکھنے سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب اسے دھوپ میں رکھیں تو پہلے پہل وہ اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوشش کرے گا تا کہ کوئی سایہ مل جائے ‘ مگر تھک ہار کر وہ دیوانہ وار اپنے آپ پر ڈنک مارنا شروع کر دیتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتا ہے۔
اگر چہ بچھو انسان اور بعض جانوروں کا دشمن ہے مگر قدرت نے اس کے بھی بہت سے دشمن پیدا کر رکھے ہیں جو اس کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔
میکسیکو کے گرم جنگلات اور وسطی امریکہ میں چیونٹیوں کی فوج کی فوج ان پر پل پڑتی ہے اور آن کی آن میں بچھو تتر بتر ہو جاتے ہیں۔
افریقہ کے بندر ان کی دُم کو علیحدہ کر کے بقیہ جسم کو مزے لے کر ہڑپ کر لیتے ہیں۔
ٹرانسکو کیزیا میں ایک چھپکلی کے پیٹسے بچھو کے جسم کے کچھ حصے ملے تھے۔
الجیریا میں کچھ لوگ زندہ بچھو بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔
ایریزونا میں مرغی کے چوزے اپنی چونچوں سے بچھوﺅں کو مار ڈالتے ہیں۔
سیاہ چیونٹی اس کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ اگرچہ بچھو کبھی اس کے قابو میں نہیں آتا مگر بھولے سے اگر وہ اس کے ہتھے چڑھ جائے تو پھر اس کا بچ نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بچھو کے زہر کے علاج کیلئے تیر بہدف نسخہ یہ ہے کہ چند زندہ یا مردہ بچھوﺅں کو سرسوں کے تیل میں ڈال کر ایک بوتل میں بند کر رکھیں اور جس جگہ بچھو نے کاٹا ہو‘ وہاں پر یہ تیل لگا دیں۔ فوری طور پر یوں محسوس ہوگا گویا کسی نے برف کی پٹی لگا دی ہے۔
یہی عمل دہرانے سے درد میں خاطر خواہ کمی واقع ہو جائے گی ۔
اس کے علاوہ لیموں کا ست پانی میں حل کر کے بچھو کی کاٹی ہوئی جگہ پر لگانے سے بھی کافی افاقہ ہو جاتا ہے۔
اس کا بہترین علاج تمباکو کی راکھ‘ مائع حالت میں امونیا‘ یا خشک حالت میں نوشادر ‘ پگھلی ہوئی چربی ‘ لیموں کا ست یا پوٹاشیم پرمینگنیٹ ہے۔
ان تمام اشیاءمیں سے جو بھی دستیاب ہو اسے بچھو کے ڈسے ہوئے مقام پر لگانے سے ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔
بچھو کے ڈسے ہوئے زخم سے زہر نکالنے کیلئے لوہے کی بڑی سی چابی یا پستول کی نالی کو اس جگہ پر زور سے ملنا چاہیے۔ اس سے بھی زہر کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
بچھو کے کھانے کی رفتار چیونٹیوں کی طرح بہت سست ہوتی ہے اور یہ چھوٹے سے کیڑے کو کھانے کیلئے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لیتا ہے۔

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
https://shanzargar.blogspot.com

گوہ کی گواہی


حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک اعرابی آیا جس کے پاس گوہ تھی‘ وہ کہنے لگا‘ مجھے لات و عزیٰ کی قسم اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم‘ میں تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لاؤں گا جب تک کہ یہ گوہ تمہاری صداقت کی گواہی نہ دے‘ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا سنو! پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ سے مخاطب ہو کر فرمایا‘ اے گوہ بول! گوہ سنتے ہی عربی زبان میں بول اٹھی‘لبیک یا رسول العالمین‘تمام سعادتیں اور کامیابیاں آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ سے پوچھا تم کس کی عبادت کرتی ہو‘ گوہ نے فوراً جواب دیا‘ اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمان میں ہے اور زمین میں جس کی حکومت ہے اور سمندر میں جس کا راستہ ہے اور جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں کون ہوں“ وہ بولی‘ آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘ جس نے آپؐ کو پہچان لیا وہ نجات پا گیا اور جس نے آپؐ کو نہ مانا وہ دونوں جہانوں میں نقصان پا گیا۔
اس اعرابی نے جب گوہ کی گواہی سنی تو وہ فوراً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت وعظمت کا اقراراور آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کا علم جانوروں کو بھی ہے پھر جو شخص حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور ختم نبوت میں شک کرے اس سے بڑھ کر بدنصیب کون ہوگا۔(حجۃ اللہ صفحہ 465‘366سچی
حکایات)

 اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

Http://shanzargar.blogspot.com

Friday, November 16, 2018

اللّٰہ کے نام


شمارنامترجمہ
1الرحمنبڑی رحمت والا
2الرحيمنہائت مہربان
3الملكحقیقی بادشاہ
4القدوسنہائت مقدس اور پاک
5السلامجس کی ذاتی صفت سلامتی ہے
6المؤمنامن و امان عطا کرنے والا
7المهيمنپوری نگہبانی کرنے والا
8العزيزغلبہ اور عزت والا، جو سب پر غالب ہے
9الجبارصاحب جبروت، ساری مخلوق اس کے زیرِ تصرف ہے
10المتكبرکبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے
11الخالقپیدا فرمانے والا
12البارئٹھیک بنانے والا
13المصورصورت گری کرنے والا
14الغفارگناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا
15القهارسب پر پوری طرح غالب، جس کے سامنے سب مغلوب اور عاجز ہیں
16الوهاببغیر کسی منفعت کے خوب عطا کرنے والا
17الرزاقسب کو روزی دینے والا
18الفتاحسب کے لیے رحمت و رزق کے دروازے کھولنے والا
19العليمسب کچھ جاننے والا
20القابضتنگی کرنے والا
21الباسطفراخی کرنے والا
22الخافضپست کرنے والا
23الرافعبلند کرنے والا
24المعزعزت دینے والا
25المذلذلت دینے والا
26السميعسب کچھ سننے والا
27البصيرسب کچھ دیکھنے والا
28الحكمحاکمِ حقیقی
29العدلسراپا عدل و انصاف
30اللطيفلطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے
31الخبيرہر بات سے با خبر
32الحليمنہائت بردبار
33العظيمبڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر
34الغفوربہت بخشنے والا
35الشكورحسنِ عمل کی قدر کرنے والا، بہتر سے بہتر جزا دینے والا
36العليسب سے بالا
37الكبيرسب سے بڑا
38الحفيظسب کا نگہبان
39المقيتسب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا
40الحسيبسب کے لیے کفایت کرنے والا
41الجليلعظیم القدر
42الكريمصاحبِ کرم
43الرقيبنگہدار اور محافظ
44المجيبقبول کرنے والا
45الواسعوسعت رکھنے والا
46الحكيمسب کام حکمت سے کرنے والا
47الودوداپنے بندوں کو چاہنے والا
48المجيدبزرگی والا
49الباعثاٹھانے والا، موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے والا
50الشهيدحاضر، جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے
51الحقجس کی ذات و وجود اصلاً حق ہے
52الوكيلکارسازِ حقیقی
53القوىصاحبِ قوت
54المتينبہت مضبوط
55الولىسرپرست و مددگار
56الحميدمستحقِ حمد و ستائش
57المحصىسب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا
58المبدئپہلا وجود بخشنے والا
59المعيددوبارہ زندگی دینے والا
60المحيىزندگی بخشنے والا
61المميتموت دینے والا
62الحيزندہ و جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے
63القيومخود قائم رہنے والا، سب مخلوق کو اپنی مشیئت کے مطابق قائم رکھنے والا
64الواجدسب کچھ اپنے پاس رکھنے والا
65الماجدبزرگی اور عظمت والا
66الواحدایک اپنی ذات میں
67الاحداپنی صفات میں یکتا
68الصمدسب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج
69القادرقدرت والا
70المقتدرسب پر کامل اقتدار رکھنے والا
71المقدمجسے چاہے آگے کر دینے والا
72المؤخرجسے چاہے پیچھے کر دینے والا
73الأولسب سے پہلے وجود رکھنے والا
74الأخرسب کے بعد وجود رکھنے والا
75الظاهربالکل آشکار
76الباطنبالکل مخفی
77الواليمالک و کارساز
78المتعاليبہت بلند و بالا
79البربڑا محسن
80التوابتوبہ کی توفیق دینے والا، توبہ قبول کرنے والا
81المنتقممجرمین کو کیفرِ کردار کو پہنچانے والا
82العفوبہت معافی دینے والا
83الرؤوفبہت مہربان
84مالك الملكسارے جہاں کا مالک
85ذو الجلال و الإكرامصاحبِ جلال اور بہت کرم فرمانے والا جس کے جلال سے بندے ہمیشہ خائف ہوں اور جس کے کرم کی بندے ہمیشہ امید رکھیں
86المقسطحقدار کو حق عطا کرنے والا، عادل و منصف
87الجامعساری مخلوقات کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا
88الغنىخود بے نیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں
89المغنىاپنی عطا کے ذریعے بندوں کو بے نیاز کرنے والا
90المانعروک دینے والا
91الضاراپنی حکمت اور مشیئت کے تحت ضرر پہنچانے والا
92النافعنفع پہنچانے والا
93النورسراپا نور
94الهاديہدائت دینے والا
95البديعبغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا کرنے والا
96الباقيہمیشہ رہنے والا، جسے کبھی فنا نہیں
97الوارثسب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا
98الرشيدصاحبِ رشد و حکمت جس کا ہر فعل درست ہے
99الصبوربڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر تہس نہس نہیں کرتا