Showing posts with label سبق آموز واقعات. Show all posts
Showing posts with label سبق آموز واقعات. Show all posts

Friday, December 7, 2018

جہنم کے خوف سے


یہ واقعہ شام کے شہر دمشق میں ہوا۔ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی اسی یونیورسٹی میں اسکا والد ایک ڈپارٹمنٹ کا انچارج تھا۔ایک دن چھٹی کے فورا بعد اچانک بادل گرجنے لگے اور زوردار بارش ہونے لگی ،ہر کوئی جائے پناہ کی تلاش میں دوڑ رہا تھا،سردی کی شدت بڑھنے لگی، آسمان سے گرنے والے اولے لوگوں کے سروں پر برسنے لگے،یہ لڑکی بھی یونیورسٹی سے نکلی اور جائے پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگی، اس کا جسم سردی سے کانپ رہا تھالیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ اسے پناہ کہاں ملے گی،جب بارش تیز ہوئی تو اس نے ایک دروازہ بجایا، گھر میں موجود لڑکا باہر نکلا اور اسے اندر لے آیا
اور بارش تھمنے تک اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دی،دونوں کا آپس میں تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ لڑکا بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے جہاں وہ خود زیر تعلیم ہے۔اور اس شہر میں اکیلا رہتا ہے،ایک کمرہ برامدہ اور باتھ روم اس کا کل گھر تھا نوجوان نے اسے کمرے میں آرام کرنے کو کہا اور اسکے پاس ہیٹر رکھ دیا اور کہا کہ کمرہ جب گرم ہو جائے گا تو وہ ہیٹر نکال لے گا،تھوڑی دیر لڑکی بستر پر بیٹھی کانپتی رہی،اچانک اسے نیند آ گئی تو یہ بستر پر گرگئی۔نوجوان ہیٹر لینے کمرے میں داخل ہوا تو اسے یہ بستر پر سوئی ہوئی لڑکی جنت کی حوروں کی سردار لگی وہ ہیٹر لیتے ہی فورا کمرے سے باہر نکل گیالیکن شیطان جو کہ اسے گمراہ کرنے کے موقع کی تلاش میں تھااسے وسوسے دینے لگا اس کے ذہن میں لڑکی کی تصویر خوبصورت بنا کر دکھانے لگاتھوڑی دیر میں لڑکی کی آنکھ کھل گئی، جب اس نے اپنے آپ کو بستر پر لیٹا ہوا پایا تو ہڑبڑا کر اٹھ گئی اور گھبراہٹ کے عالم میں بے تحاشا باہر کی طرف دوڑنے لگی اس نے برامدے میں اسی نوجوان کو بیہوش پایا وہ انتہائی گھبراہٹ کی عالم میں گھر کی طرف دوڑنے لگی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ کر باپ کی گود میں سر رکھ دیا جو کہ پوری رات اسے شہر کے ہر کونے میں تلاش کرتا رہا تھااس نے باپ کو تمام واقعات من و عن سنا دیے اور اسے قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں جانتی جس عرصہ میں میری آنکھ لگی کیا ہوامیرے ساتھ کیا کیا گیا، کچھ نہیں پتا،اسکا باپ انتہائی غصے کے عالم میں اٹھا اور یونیورسٹی پہنچ گیا اور اس دن غیر حاضر ہونے والے طلبہ کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہایک لڑکا شہر سے باہر گیا ہے اور ایک بیمار ہے، ہسپتال میں داخل ہے،باپ ہسپتال پہنچ گیا تاکہ اس نوجوان کو تلاش کرے اور اس سے اپنی بیٹی کا انتقام لے،ہسپتال میں اسکی تلاش کے بعد جب اسکے کمرے میں پہنچا تو اسے اس حالت میں پایا کہ اسکی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پٹیوں سے بندھی ہوئی تھی اس نے ڈاکٹر سے اس مریض کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر نے بتایا جب یہ ہمارے پاس لایا گیا تو اسکے دونوں ہاتھ جلے ہوئے تھے باپ نے نوجوان سے کہاکہ تمہیں اللہ کی قسم ہے!مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا ہوا ہے باپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا،وہ بولا ایک لڑکی کل رات بارش سے بچتی ہوئی میرے پاس پناہ لینے کے لیے آئی،میں نے اسے اپنے کمرے میں پناہ تو دے دی لیکن شیطان مجھے اس کے بارے میں پھسلانے لگا تو میں اسکے کمرے میں ہیٹر لینے کے بہانے داخل ہوا، وہ سوئی ہوئی لڑکی مجھے جنت کی حور لگی، میں فورا باہر نکل آیا لیکن شیطان مجھے مسلسل اسکے بارے میں پھسلاتا رہا اور غلط خیالات میرے ذہن میں آتے رہے تو جب بھی شیطان مجھے برائی پر اکساتا میں اپنی انگلی آگ میں جلاتا تاکہ جھنم کی آگ اور اسکے عذاب کو یاد کروں اور اپنے نفس کو برائی سے باز رکھ سکوں یہاں تک کہ میری ساری انگلیاں جل گئی اور میں بے ہوش گیا ،مجھے نہیں پتا کہ میں ہسپتال کیسے پہنچا۔یہ باتیں سن کر باپ بہت حیران ہوا۔ بلند آواز سے چلایا اے لوگو۔۔۔۔۔۔! گواہ رہو میں نے اس پاک سیرت لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے سبحان اللہ
یہ ہے اللہ سے ڈرنے والوں کا ذکر،اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس لڑکی کی عزت محفوظ نہ رہ سکتی۔جو بھی لڑکا یا لڑکی ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں یا غیر شرعی دوستیاں یا محبتیں کرتے ہیں تو وہ اپنے اس برے فعل کو چھپانے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ والدین ان کے ان کاموں سے بے خبر رہیں حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ ان کے ہر فعل سے با خبر ہےپھر بھی انکے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا !!ایسا کیوں ہے؟؟کیونکہ والدین نے بچپن سے ان کے دل و دماغ میں اللہ کے خوف کے بجائے اپنا ذاتی خوف،رعب و دبدبہ ،سزا کا ڈر ہی بٹھایا ہے۔اسی لیے آج وہ اللہ سے بے پرواہ ہو کر والدین سے چھپ کر گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔اور ایسے بھی والدین ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت خوف خدا پر کی تو انکی اولاد
نےبھی برائیوں سے اپنے آپ کو باز رکھا۔

مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری
ویب سائٹ
👇
http://www.ilmkikehkashan.com


Thursday, November 29, 2018

اصلی چور

ایک بنک ڈکیتی کے دوران ڈکیت نے چیخ کر سب سے کہا
"کوئی بھی ہلے مت۔چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں۔۔رقم لوگوں کی ہے اور جان آپ کی اپنی ہے۔۔۔"
سب چپ چاپ زمین پر لیٹ گئے۔۔۔کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا
اسے کہتے ہیں مائند چینج کانسیپٹ (سوچ بدلنے والا تصور)۔۔۔
ایک خاتون کچھ واہیات انداز میں زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ایک ڈاکو اس سے بولا
"تمیز سے لیٹو یہاں ڈکیتی ہو رہی ہے ، ریپ نہیں ہو رہا۔۔۔"
اسے کہتے ہیں "فوکس " بس وہی کام کریں جس کے لیے آپ کو ٹرینڈ کیا گیا ہے۔۔
ڈکیتی کے بعد گھر واپس آئے تو نوجوان ڈکیت( جو کہ ایم بی اے پاس تھا )نے بوڑھے ڈکیٹ ( جو کہ صرف پرائمری پا س تھا )سے کہا "چلو رقم گنتے ہیں۔۔
"تم تو پاگل ہو گئے ہو اتنے زیادہ نوٹ کون گنے۔۔رات کو خبروں میں سن لینا کہ ہم کتنا مال لوٹ کر لائے ہیں۔۔"
اسے کہتے ہیں تجربہ جو کہ آج کل ڈگریوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔۔
جب ڈاکو بنک سے چلے گئے تو منیجر نے سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو فون کرو۔۔
سپروائز نے جواب دیا "رک جائیں سر ! پہلے بنک سے ہم دونوں اپنے لیے دس لاکھ ڈالرز نکال لیتے ہیں اور ہاں وہ چالیس لاکھ ڈالرز کا گھپلہ جو ہم نے حالیہ دنوں میں کیا ہے وہ بھی ڈاکووں پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ لوٹ کر لے گئے۔۔" اسے کہتے ہیں وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا۔۔۔مشکل حالات کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کر لینا۔۔
منیجر ہنس کر بولا۔۔"ہر مہینے ایک ڈکیتی ہونی چاہیے۔۔" اسے کہتے ہیں بوریت ختم کرنا۔۔۔ذاتی مفاد اور خوشی جاب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔
اگلے دن اخبارات اور ٹی وی پر خبریں تھیں کہ ڈاکو بنک سے سو ملین ڈالرز لوٹ کر فرار۔۔۔ڈاکووں نے بار بار رقم گنی لیکن پچاس ملین ڈالرز سے زیادہ نہ نکلی۔۔۔بوڑھا ڈاکو غصے میں آ گیا اور چیخا
"ہم نے اسلحہ اٹھایا۔اپنی جانیں رسک پر لگائیں اور پچاس ملین ڈالرز لوٹ سکے اور بنک منیجر نے بیٹھے بیٹھے چند انگلیاں ہلا کر پچاس ملین ڈالرز لوٹ لیا۔۔اس سے پتا چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔۔ ہم کو چور نہیں پڑھا لکھا ہونا چاہیے تھا۔۔"
اسے کہتے ہیں علم کی قیمت سونے کے برابر ہوتی ہے۔۔
بنک منیجر خوش تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اسے جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب ان پیسوں سے پورا ہو گا۔۔اسے کہتے ہیں موقع پرستی۔۔
آخر میں بس ایک سوال۔۔
کون ہے اصل ڈکیت؟

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
Http://ShanZargar.blogspot.com

تکبر نے بکھاری بنا دیا

ایک بزرگ نے بیان فرمایا کہ میں نے ایک شخص کو مطاف میں دیکھا کہ اس شان کے ساتھ طواف کر رہا ہے کہ اس کے پیچھے خدام ہیں۔ اس کے لیے راستہ صاف کیاجا رہا ہے۔ دھکوں، مکوں کے ذریعے طواف کرنے والوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔ لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر ان کو دیکھ رہے ہیں، میں نے بھی ان صاحب کو غور سے دیکھا۔دل میں خیال آیا کہ یہ تو اظہار بندگی، عجز و انکساری کا مقام ہے، جس کو اللہ تعالیٰ اس مقام پر پہنچا دے اس کو تو خوب شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے دل سے دنیا کی حرص، کبر، نخوت، خیالات و تصورات کو نکال کر صرف ایک اللہ کی بڑائی کو دل میں جمانا چاہیے۔ اسی دھیان کے ساتھ اس کے آگے سر کو جھکانا چاہیے۔ یہاں پہنچ کر اپنی شان ظاہر کرنا، اگرچہ ظاہری طور پر ہی ہو، قطعاً مناسب نہیں، بس یہ خیالات آئے اور ختم ہو گئے، وہ صاحب بھی طواف سے فارغ ہو کر چلے گئے۔چند سالوں کے بعد بغداد جانا ہوا، وہاں ایک پل کے کنارہ ایک فقیر پر نظر پڑی جو ہر گزرنے والے سے بھیک مانگتا پھر رہا تھا۔ لوگ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور گزر جاتے۔ میں نے اس فقیر کی طرف غور سے دیکھا تو وہ کہنے لگا۔ ’’کیوں گھور کردیکھ رہے ہو؟‘‘تومیں نے کہا کہ ’’چند سال قبل میں نے ایک امیر شخص کو بڑی شان و شوکت کے ساتھ طواف کرتے دیکھا تھا، وہ شخص آپ کی شکل کا تھا، اس لیے غور سے دیکھ رہا ہوں۔‘‘تو اس نے کہا کہ ’’وہ امیر شخص میں ہی تھا۔ میں نے اس عبدیت کے مقام پر تکبر کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سزا دی کہ مجھے مخلوق کے سامنے ذلیل کیا، آج میں دن بھر لوگوں سے بھیک مانگتا ہوں اور ذلیل ہوتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو کبر و نخوت کی بلا سے حفاظت میں رکھے اور میرے انجام بد سے سبق حاصل کرنے کی توفیق دے۔‘‘یہ تو دنیا کی سزا ہے، آخرت کی سزا تو اس سے بڑی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر کبر ہو وہ دخول جنت سے محروم ہوگا۔ اس کے علاوہ بھی عجب و کبر پر وعیدیں مذکور ہیں۔ فاعتبر و ایا اولیٰ الابصار۔
 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
http://ShanZargar.blogspot.com

Monday, November 12, 2018

لقمان حکیم اور پھل چور غلام

حضرت لُقمان کے بارے میں مشہور ہے کہ ابتداء میں کسی امیر کے غُلام تھےاور نہایت بدصورت اور بد شکل تھے۔ امیر کے دوسرے غُلاموں میں لُقمان جیسا کوئی بھی نہ تھا۔سبھی اچھی صُورت شکل والے تھے۔وہ ہمیشہ لُقمان کا مذاق اُڑایا کرتے، اپنے حصے کا کام بھی اُن پر لاد دیتے اور امیر سے بے جہ شکایتیں کرتے۔لیکن حضرت لُقمان کبھی شکایت کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لاتے۔ اگرچہ سر سے پاؤں تک جسم کا رنگ سیاہ تھا، مگر انتہائی دانا اور عقل مند تھے۔دانائی کی ایسی ایسی باتیں کہا کرتے کہ جو سُنتا، حیرت سےدانتوں تلے اُنگلی دبا لیتا۔اس امیر کے پھلوں کے کئی باغ تھے۔درختوں پر پھل پک جاتے تو لُقمان بھی دوسرے غلاموں کے ساتھ پھل توڑنے جایا کرتے ۔بعض اوقات غُلام جتنے بھی پھل جمع کرتے ،اِن میں اکثر خود ہڑپ کر جاتے۔ ایک مرتبہ امیر نے پھلوں کا شمار کیا تو قیاس سے بہت کم نکلے۔غُلاموں سے پُوچھا کہ پھل اتنے کم کیوں ہیں؟ اُنھوں نے لُقمان کا نام لگا دیا کہ یہ غُلام چوری چُھپے پھل کھا جایا ہے۔امیر نے یہ بات سُنی تو لُقمان کو طلب کر کے خُوب ڈانٹا اور بے حدسختی کی ۔آخر لُقمان نے کہا :
"اے آقا ، یہ جُھوٹ بولتے ہیں۔میں نے آج تک امانت میں خیانت نہیں کی۔ خُدا کے ہاں بے ایمان شخص کی بخشش ہی نہیں ۔اب مناسب یہ ہے کہ تو سب کا امتحان لے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب غُلاموں کو گرم پانی پلااور خُود گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل کی طرف چل۔غُلاموں کو حُکم دے کہ گھوڑے کہ ساتھ ساتھ دوڑیں۔خدا نے چاہا تو سب بھید کُھل جائے گا کہ میں سچ کہتا ہوں کہ جُھوٹ۔"
امیر کو لُقمان کی بات پسند آئی۔اُس نے سب غُلاموں کو زبردستی گرم پانی پلایا۔لُقمان نے بھی پیا۔پھر امیر نے اپنا گھوڑا جنگلوں اور سبزہ زاروں میں خُوب دوڑایا۔اِس دور دھوپ کا نتیجہ یہ نِکلا کہ سب غُلام تھک ہار کر لمبے لمبے لیٹ گئے۔اُن کا جی متلایا اور سب نے قے کرکرکے جو کھایا پیا تھا، سب باہر اُگل دیا۔ لُقمان نے جو قے کی، وہ بالکُل صاف تھی اور اُن کے معدوں سے پھلوں کے ٹکڑے برآمد ہوئے۔یہ دیکھ کر امیر کو لُقمان کی سچائی اور حِکمت پر یقین آیا۔اُس نے غُلاموں کو سرزش کی اور لُقمان کو اُن کا سردار بنا دیا۔ سچ ہے ، جب ایک شخص لُقمان کی حکمت یہ حیرت انگیز کرشمہ دکھا سکتی ہےتو وہ فاعِل حقیقی ، جس کا ہر فعل حکمت ہے۔کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کرنے میں کب کسی کا محتاج ہو سکتا ہے۔

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇


Thursday, November 8, 2018

مائیکل جیکسن کا موت کو دھوکہ دینا

مائیکل جیکسن نے امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت‘ جلد‘ نقوش اور حرکات و سکنات بدل گئیں۔ سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ اس نے 1987ء میں بیڈ کے نام سے اپنی تیسری البم جاری کی‘ یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی‘ یہ البم بھی کامیاب ہوئی اور اس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس البم کے بعد اس نے اپنا پہلا سولو ٹور شروع کیا۔ وہ ملکوں ملکوں ‘ شہر شہرگیا ‘ موسیقی کے شو کئے اوران شوز سے کروڑوں ڈالر کمائے۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔ اس کے بعد ماضی کی باری آئی ‘ مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا‘ اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے‘ اس نے کرائے پر گورے ماں باپ بھی حاصل کر لئے اور اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔ اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی بھی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔
ڈیبی رو کے بطن سے اس کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی‘ اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی لہٰذا اب اس کی آخری نفرت یا خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتاتھا‘ مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا‘ وہ جراثیم‘ وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔ یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے‘
اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا‘ اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں‘ گردوں‘ آنکھوں‘ دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا‘ یہ ڈونر تھے جن کے تمام اخراجات وہ اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء4 اسے عطیہ کر دینا تھے چنانچہ اسے یقین تھا وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہے گا لیکن پھر 25جون کی رات آئی ‘ اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی‘ اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئرڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا‘یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو یہ اسے ہسپتال لے گئے اور وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ جو ننگی پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا‘ جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا‘ جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا تھا۔ وہ شخص 50سال کی عمر میں صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی‘ یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔
مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا‘ وہ سر سے گنجا تھا‘ اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ اس کے کولہے‘ کندھے‘ پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز‘ یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اْس جہان شفٹ ہو گیا جس میں ہر زندہ شخص نے پہنچنا ہے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے‘ انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا کوئی فرعون وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ قبر کو شکست نہیں دے سکتا لیکن حیرت ہے ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے‘ ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں۔

  مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

Tuesday, November 6, 2018

یہودی اور چرواہا

ایک یہودی کا گزر مسلمانوں کے ایک بستی سے ہوا ۔
 اس کے دل میں ایک ترکیب آئی کہ کیوں نہ میں انہیں ان کے دین کے تعلق سے ان کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کروں؟ اور انہیں ان کے علماء سے بد ظن کردوں۔ بستی میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی ۔ یہودی نے سوچا کہ کیوں نہ اسی جاہل سے اس کی ابتداء کی جائے اور اس چرواہے کے دل ودماغ میں اسلام کے خلاف شکوک وشبہات پیدا کیا جائے۔ یہودی نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمان مسافر ہوں۔ باتوں ہی باتوں میں یہودی کہنے لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کے لئے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہ قرآن تیس اجزاء پر مشتمل ہے۔ لیکن قرآن میں بیشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں۔ بار بار دہرانے کی کیا ضرورت ہے ۔ اگر متشابہات کو نکال دیاجائے تو قرآن اور بھی مختصر ہوجائے گا اور یاد کرنے میں بہت آسانی بھی ہوجائے گی۔ چرواہا اس کی بات غور سے سنتا رہا اور خاموش رہا ۔ جب یہودی کی بات مکمل ہوئی تو چرواہے نے کہا کہ واہ تمہارا خیال تو بہت اچھا ہے ۔ یہودی دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ یہ چرواہا میرے جال میں آگیا ہے ۔
پھر اچانک چرواہے نے کہا کہ میرا ایک سوال ہے؟ یہودی نے کہا : پوچھئے تو صحیح؟ تم چاہتے ہوکہ قرآن میں جو متشابہات یا تکرار ہے اس کو نکال دینا چاہئے..؟
ہاں بالکل میرا یہی خیال ہے کہ جو آیت ایک مرتبہ سے زیادہ ہو اس کو قرآن سے خارج کردیا جائے تو قرآن مختصر ہوجائے گا اور یاد کرنے میں آسانی بھی ہوگی۔
چرواہے نے کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ تمہارے بدن پر بھی بعض اعضاء ایک سے زیادہ ہیں جو تکرار پیدا کررہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے..
کیوں نہ تمہارے دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو کاٹ دیا جائے۔ دو پیروں میں سے ایک پیر ہی رکھا جائے اس لئے کہ یہ تکرار ہے۔ دو دو آنکھوں کی کیا ضرورت ہے کام تو ایک آنکھ سے بھی پورا ہوسکتا ہے کیوں نہ تمہاری ایک آنکھ بھی نکال دی جائے۔ دو کان اور دو گردوں کی کیا ضرورت ہے اس میں بھی تکرار ہے ۔ اگر ان تمام تکرار والے اعضاء کو نکال دیا جائے تو تمہار ا بدن بھی ہلکہ ہوجائے گا ۔ اور غذا کی مقدار بھی کم ہوجائے گی اور تمہیں زیادہ جدوجہد کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی، کیا خیال ہے..؟
یہودی اپنا سیاہ منہ لیکر فورا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی راہ لی ۔ زندگی بھر یہی سوچتا رہا کہ جب مسلمانوں کے چرواہے کی یہ فکر ہے تو ان کے علماء کے افکار کیسے ہوں گے۔۔

منقول

مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

زندگی کا سبق

ایک شہزادہ اپنے اْستاد مْحترم سے سبق پڑھ رہا تھا،اْستاد مْحترم نے اْسے دو جْملے پڑھائے ،جْھوٹ مت بْولو، غْصّہ نہ کرو۔کْچھ دہر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سْنانے کو کہا گیا تو شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ہوسکا،دْوسرے دن پھر اْستاد مْحترم نے سبق سنانے کو کہا شہزادے نےپھر عرض کیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ہو سکا۔تیسرے دن چھٹی تھی ۔اْستاد نے کہا کہ کل چھٹی ہے لہذا کل لازمی سبق یاد کر لینابعد میں میں کوئی بہانہ نہیں سْنوں گا !۔چْھٹی کے بعد اگلے دن بھی شاگرد خاص سبق سْنانے میں ناکام رہا۔ اْستاد مْحترم یہ خیال کیئے بغیر کہ شاگرد ایک شہزادہ ہے۔غصے سے چلّا اْٹھے اْور طیش میں آکر ایک تھپڑ رسید کردیا کہ یہ بھی کوئی بات ھے کہ اتنے دنْوں سی دو جْملے یاد نہیں ھوکر دے رہے !!!۔
تھپڑ کھاکر ایک دفعہ تو شہزادہ گم سْم ھوگیا پھر بْولا کہ اْستاد مْحترم سبق یاد ھوگیا اْستاد کو بہت تعجب ھوا کہ پہلے تو سبق یاد نہیں ھورہا تھااْور تھپڑ کھاتے ہی فوری سبق یاد ھوگیا،شہزادہ عرض کرنے لگا کہ اْستاد مْحترم آپ نے مْجھے دو باتیں پڑھائی تھیں جھوٹ نہ بْولواور غْصّہ نہ کرو ۔جْھوٹ بْولنے سے تو میں نے اْسی دن توبہ کرلی تھی لیکن غْصّہ نہ کرو ۔ یہ مْشکل کام تھا بہت کوشش کرتا تھا کہ غْصّہ نہ آئے ۔لیکن غْصّہ آجاتا تھا اب جبتک میں غْصّے پر قابْو پانا نہیں سیکھ جاتا تو کیسے کہہ دیتا کہ سبق یاد ھوگیا ؟؟؟۔
آج جب آپ نے تھپڑ مارا اْور یہ تھپڑ بھی میری زندگی کا پہلا تھپڑ تھا ا سی وقت میں نے اپنے دل و دماغ میں غْور کیا کہ غْصّہ آیا کہ نہیں ؟؟؟غْور کرنے پر مجھے محسوس ہوا کہ غْصّہ نہیں آیا آج میں نے آپ کا بتایا ہوادوسرا سبق کہ غْصّہ نہ کرو بلکل سیکھ لیا ھے ، آج اللہ کے فضل سے مْجھےمْکمل سبق یاد ھوگیا ہے !!!!

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇


Saturday, November 3, 2018

انسان اور سانپ کا فیصلہ اور بندر کی سمجھداری

ایک شخص جھاڑیوں کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا سانپ نے اس آدمی سے مدد کی اپیل کی اس آدمی نے لکڑی کی مدد سے سانپ کو باہر نکالا باہر آتے ہی سانپ نے اس آدمی سے کہا میں تو تمہیں ڈسوں گا اس شخص نے سانپ سے کہا کے میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو سانپ نے کہا ہاں نیکی کا بدلہ بدی ہےاس آدمی نے کہا چلو کسی سے فیصلہ کرا لیتے ہیں وہ ایک گاے کے پاس گئے اسکو سارا واقعہ سنایا اور فیصلہ کرنے کو کہااس نے کہا واقعی نیکی کا بدلہ بدی ہے جب میں جوان تھی اپنے مالک کو دودھ دیتی تھی وہ میرا بہت خیال رکھتا تھا مجھے چارہ دیتا تھا اب میں بوڑھی ہو گی ہوں اسنے میرا خیال رکھنا چھوڑ دیا یہ سن کر سانپ نے کہا اب تو میں  ڈسوں گااس آدمی نے کہا چلو ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں سانپ مان گیا انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا گدھے نے بھی یہی جواب دیا کے نیکی کا بدلہ بدی ہے جب میرے اندر دم تھا مالک کے کام آتا تھا وہ میرا خیال رکھتا تھا جو نہی میں بوڑھا ہوا اسنے مجھے بھگا دیا سانپ اس آدمی کو ڈسنے ہی لگا تھا کے اس نے منت کر کے کہا ایک موقع اور دے دو سانپ کے حق میں دو فیصلے ہو چکے تھے اس لیئے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا اب کی بار وہ ایک بندر کے پاس گئے اسکو سارا واقعہ سنایا اور کہا کے فیصلہ کرو بندر نے کہا مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو اور سانپ کو میرے سامنے ان جھاڑیوں میں پھینکو اور پھر باہر نکالو اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا وہ تینوں ان جھاڑیوں کے پاس چلے گے اس شخص نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کے بندر نے منع کر دیا اور کہا اسکو مت نکالو یہ نیکی کے قابل ہی نہیں ہے اور نہ تھا۔ وہ بندر ہم سے زیادہ عقل مند تھا ہم کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہم کو خیال ہی نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں انکے ساتھ نیکی اور ہمدردی کرنا خود کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے اس لیے بھاہیو آپ بھی خیال کرو کہیں آپ کے اردگرد بھی اس طرح کے انسان نما سانپ تو نہیں..!!

  مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇


Tuesday, July 25, 2017

میرا بچپن لوٹا دو


یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹادو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
محلے کی سب سے پرانی نشانی
وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی
وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈھیرا
وہ چہرے کی جہریوں میں صدیوں کا پھیرا
بھلائے نہیں بھول سکتا ہے کوئی
وہ چھوٹی سی راتیں وہ لمبی کہانی
کڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلنا
وہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑنا
وہ گڑیا کی شادی میں لڑنا جھگڑنا
وہ جھولوں سے گرنا وہ گر کہ سنبھلنا
وہ پیتل کے چھلوں کے پیارے سے تحفے
وہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانی
کبھی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جانا
گھروندے بنانا بنا کہ مٹانا
وہ معصوم چاہت کی تصویر اپنی
وہ خوابوں خیالوں کی جاگیر اپنی
نہ دنیا کا غم تھا نہ رشتوں کا بندھن
بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی۔۔۔۔۔

Monday, July 24, 2017

والدین کو عزت دینے کے 35 طریقے۔۔۔۔


والدین کو عزّت دینے کے 35 طریقے
ضرور پڑھئیے....👇
1 والدین کی موجودگی میں اپنے فون کو دور رکھئیے۔
2 انُ کی باتوں کو توجہ سے سنئیے۔
3 انُ کی رائے کو مقدم رکھئیے۔
4 انُ کی گفتگو میں شامل رہئیے۔
5 انُ کو عزّت سے دیکھئے۔
6 انُ کو ہمیشہ تعظیم دیجئیے۔
7 انُ کے ساتھ اچھی خبر شیئر کیجئے۔
8ان کو بُری خبر بتانے سے پرہیز کیجئے۔
9 ان کے دوستوں کے بارے میں اچھی باتیں کیجئے،اور ان سے محبت رکھئیے۔
10 انُکی کی گئی اچھی چیزوں کو اکثر یاد کرتے رہیں۔
11 انُ کی دہرائ ہوئ باتوں کو اس طرح سنئیے کہ گویا پہلی بار سنُ رہے ہوں۔
12 ماضی کی تلخ یادوں کو ان ساتھ کبھی نہ کیجئے.
13 ان کی موجودگی میں کسی دوسری گفتگو سے پرہیز کیجئے۔
14 ان کے سامنے ادب سے بیٹھنے.
15 انُ کی رائے اور سوچ کے متعلق معمولی سا اختلاف بھی نہ کیجئے۔
16 جب وہ گفتگو کریں تو انُکی بات کو مت کاٹئیے.
17 انُ کی عمر کا احترام کیجئے۔
18 انُ کے موجودگی میں اپنے بچّوں کو نہ ڈانٹئے اور مارنے سے گریز کیجئے۔
19 انُ کے حکم اور مشورے کو قبول کیجئے۔
20 انُ کی موجودگی میں صرف ان سے ہی راہنمائ لیجئے۔
21 انُ کے سامنے اپنی آواز کو ہرگز اونچا نہ ہونے دیجئے۔
22 انُ کے ساتھ چلتے ہوئے انُ سے آگے بڑھنے یا ان کے سامنے چلنے سے پرہیز کیجئیے۔
23 ان سے پہلے کھانا شروع مت کیجئے۔
24 انُ کے سامنے خود کو نمایاں مت کیجئے۔
25 جب وہ خود کو کسی قابل نہ سمجھیں تو ان کو بتائیے کےوہ آپکے لئے قیمتی اور قابل احترام ہیں.
26 انُ کے سامنے بیٹھتے ہوئے اپنے پیر انُ کے سامنے مت کیجئے اور نہ ہی انُ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھیں.
27 انُ کے ساتھ بداخلاقی سے بات مت کیجئے.
28 کوشش کیجئے کہ انُ کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں شامل رکھئیے.
29 انُ کی موجودگی میں خود کو ہرگز بوُر اور تھکا ہوا ظاہر نہ کیجئے.
30 انُ کی غلطیوں اور بھول پر کبھی مت مسکُرائیے.
31 انُ کی زیارت برابر کرتے رہئیے۔
32 انُ سے بات کرتے وقت بہترین الفاظ کا چناؤ کیجئیے.
33 انُ کو محبت بھرے ناموں سے پکاریے جو وہ پسند کرتے ہیں۔
34 انُ کو ہر چیز پر مقدّم رکھئیے اور ترجیح دیجئے.
35 والدین اس کرۂ ارض پر خزانہ ہیں۔سوچئیے اس سے پہلے کے یہ خزانہ دفن ہو جائے۔اپنے والدین کو عزّت دیجئیے جب تک وہ ہمارے پاس ہیں.
آئیے آج ہی اپنے قابلِ احترام و محبت والدین کے لئے ڈھیروں دعائیں کرتے ہیں.
جزاکم الله خیرا و احسن الجزاء

  مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
http://www.ilmkikehkashan.com