Showing posts with label مزاحیہ کہانیاں اور تحریریں. Show all posts
Showing posts with label مزاحیہ کہانیاں اور تحریریں. Show all posts

Thursday, November 15, 2018

پروفیسر صاحب کی سمجھداری

پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم نے  سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی
ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟

 اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇

میاں بیوی

  شوہر نے بیوی کو میسیج کیا۔
تم نے مجھے آج جو شاپنگ کی لسٹ بھیجی ہے وہ میں نہیں لے سکتا۔ آفس میں ضروری میٹنگ ہے۔ میں لیٹ ہوجاوں گا۔
بیوی نے جواب دیا ٹھیک ہے کل لے آیئے گا۔
تھوڑی دیر بعد بیوی کو ایک انجان نمبر سے میسیج ملتا ہے۔
آپ کے شوہر پی ایف چینگ ریسٹورنٹ میں ایک حسین خاتون کے ساتھ ابھی ابھی داخل ہوئے ہیں۔ میں آپ کا خیرخواہ ہوں۔ اگر میری بات پہ یقین نہیں تو خود آ کر دیکھ لیجئے۔
بیوی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے بچے پھینکے پڑوسن کے پاس۔ جلدی سے ٹیکسی پکڑی اور پہنچی پی ایف چینگ چائینیز ریسٹورنٹ۔
وہاں اس نے ایک ایک کونہ چھان مارا مگر شوہر ہوتا تو ملتا۔
اتنے میں شوہر کی کال آئ۔ بیوی نے جلدی سے کال پک کی۔
شوہر: پہنچ گئیں تم پی ایف چینگ۔
بیوی: جی اور کہاں ہیں آپ اور آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں ریسٹورنٹ میں ہوں۔
شوہر: میں تو آفس میں ہوں اور یہ میسج میں نے ہی تمہیں اپنے دوست کے نمبر سے کیا تھا۔
سنو یہ شہلا والے میسیج کا بدلہ ہے۔ تم کو کیا لگتا ہے چالاکیاں صرف عورتوں کو آتی ہیں۔ اب چونکہ تم مارکیٹ آ ہی گئ ہو تو جو لسٹ مجھے دی تھی وہ ساری شاپنگ خود ہی کرلو۔
اور ہاں یہ ساری چالاکیاں آئندہ نے کرنا ورنہ ایسے ہی بدلے لوں گا۔
نوٹ: تو لیڈیز شوہر حضرات بھی آپ کے رگ رگ سے واقف ہوتے ہیں ۔

 اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇