Pages

Thursday, November 29, 2018

اصلی چور

ایک بنک ڈکیتی کے دوران ڈکیت نے چیخ کر سب سے کہا
"کوئی بھی ہلے مت۔چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں۔۔رقم لوگوں کی ہے اور جان آپ کی اپنی ہے۔۔۔"
سب چپ چاپ زمین پر لیٹ گئے۔۔۔کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا
اسے کہتے ہیں مائند چینج کانسیپٹ (سوچ بدلنے والا تصور)۔۔۔
ایک خاتون کچھ واہیات انداز میں زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ایک ڈاکو اس سے بولا
"تمیز سے لیٹو یہاں ڈکیتی ہو رہی ہے ، ریپ نہیں ہو رہا۔۔۔"
اسے کہتے ہیں "فوکس " بس وہی کام کریں جس کے لیے آپ کو ٹرینڈ کیا گیا ہے۔۔
ڈکیتی کے بعد گھر واپس آئے تو نوجوان ڈکیت( جو کہ ایم بی اے پاس تھا )نے بوڑھے ڈکیٹ ( جو کہ صرف پرائمری پا س تھا )سے کہا "چلو رقم گنتے ہیں۔۔
"تم تو پاگل ہو گئے ہو اتنے زیادہ نوٹ کون گنے۔۔رات کو خبروں میں سن لینا کہ ہم کتنا مال لوٹ کر لائے ہیں۔۔"
اسے کہتے ہیں تجربہ جو کہ آج کل ڈگریوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔۔
جب ڈاکو بنک سے چلے گئے تو منیجر نے سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو فون کرو۔۔
سپروائز نے جواب دیا "رک جائیں سر ! پہلے بنک سے ہم دونوں اپنے لیے دس لاکھ ڈالرز نکال لیتے ہیں اور ہاں وہ چالیس لاکھ ڈالرز کا گھپلہ جو ہم نے حالیہ دنوں میں کیا ہے وہ بھی ڈاکووں پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ لوٹ کر لے گئے۔۔" اسے کہتے ہیں وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا۔۔۔مشکل حالات کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کر لینا۔۔
منیجر ہنس کر بولا۔۔"ہر مہینے ایک ڈکیتی ہونی چاہیے۔۔" اسے کہتے ہیں بوریت ختم کرنا۔۔۔ذاتی مفاد اور خوشی جاب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔
اگلے دن اخبارات اور ٹی وی پر خبریں تھیں کہ ڈاکو بنک سے سو ملین ڈالرز لوٹ کر فرار۔۔۔ڈاکووں نے بار بار رقم گنی لیکن پچاس ملین ڈالرز سے زیادہ نہ نکلی۔۔۔بوڑھا ڈاکو غصے میں آ گیا اور چیخا
"ہم نے اسلحہ اٹھایا۔اپنی جانیں رسک پر لگائیں اور پچاس ملین ڈالرز لوٹ سکے اور بنک منیجر نے بیٹھے بیٹھے چند انگلیاں ہلا کر پچاس ملین ڈالرز لوٹ لیا۔۔اس سے پتا چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔۔ ہم کو چور نہیں پڑھا لکھا ہونا چاہیے تھا۔۔"
اسے کہتے ہیں علم کی قیمت سونے کے برابر ہوتی ہے۔۔
بنک منیجر خوش تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اسے جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب ان پیسوں سے پورا ہو گا۔۔اسے کہتے ہیں موقع پرستی۔۔
آخر میں بس ایک سوال۔۔
کون ہے اصل ڈکیت؟

 مزید اچھی پوسٹیں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں ہماری دوسری ویب سائٹ 
👇
Http://ShanZargar.blogspot.com

4 comments:

  1. I wish to make a video clip on YouTube. Is it allowed?

    ReplyDelete
  2. حوالہ نہیں دیں گے تو آپ کا واقعہ کاکوئی اعتبار نہیں ہے۔

    ReplyDelete
  3. دینی اور علمی تحریروں میں حوالہ (ماخذ) کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر کسی واقعہ یا بات کے ساتھ معتبر حوالہ ذکر نہ کیا جائے تو اس کی صحت اور اعتبار مشکوک ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ اس بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ جو بات بھی بیان کریں، اس کے ساتھ اس کا ماخذ اور سند ضرور پیش کریں، تاکہ قاری کو یقین ہو جائے کہ یہ بات کسی معتبر کتاب یا مستند روایت سے نقل کی گئی ہے۔

    علماء فرماتے ہیں کہ بلا حوالہ نقل کیا ہوا واقعہ محض ایک حکایت بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ حوالہ کے ساتھ بیان کیا گیا واقعہ علمی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لیے محدثین نے حدیثِ نبوی کی حفاظت کے لیے سند اور حوالہ کا ایسا مضبوط نظام قائم کیا کہ دنیا کی کسی اور قوم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر یہ اہتمام نہ کیا جاتا تو صحیح اور غلط روایات میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔

    آج کے دور میں بھی جب کوئی شخص دینی واقعہ، تاریخی حکایت یا کسی بزرگ کا قول نقل کرے تو اس کے ساتھ کتاب کا نام، مصنف کا نام یا کم از کم کوئی معتبر ماخذ ذکر کرنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف تحریر کا وقار بڑھتا ہے بلکہ پڑھنے والے کے دل میں اس کی بات کا اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص واقعات بیان کرے مگر ان کے ساتھ کوئی حوالہ نہ دے تو سننے یا پڑھنے والے کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کہاں سے لیا گیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔

    لہٰذا ضروری ہے کہ دینی واقعات اور تاریخی حکایات کو بیان کرتے وقت حوالہ کا اہتمام کیا جائے، کیونکہ یہی علمی دیانت داری اور تحقیق کا تقاضا ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف واقعات کی صداقت محفوظ رہتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں تک صحیح اور مستند معلومات پہنچتی ہیں۔ اسی بنا پر اہلِ علم ہمیشہ اس بات کی تاکید کرتے رہے ہیں کہ "بلا حوالہ نقل کردہ واقعات کا اعتبار کمزور ہو جاتا ہے"، اس لیے ہر لکھنے والے اور بیان کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی تحریر اور گفتگو میں حوالہ کا اہتمام ضرور کرے۔

    ReplyDelete